1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

ایران نے جوہری بم کی تیاری کے لئے کام کیا: البرادائی

بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی کے سربراہ محمد البرادائی نے کہا ہے کہ اس بات کے قوی امکانات ہیں کہ ماضی میں ایران نے ایٹمی ہتھیار تیار کرنے کی کوشش کی۔

default

محمد البرادائی نے ویانا میں بدھ کو اپنے ایک بیان میں کہا کہ انہیں خفیہ ذرائع سے ملنے والی اطلاعات سے پتہ چلا کہ ایران ماضی میں ایٹمی ہتھیار تیار کرنے کی بھرپور کوشش کرتا رہا ہے۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ اس حوالے سے وہ یہ بات صرف خفیہ اطلاعات کی بنیاد پر ہی کر رہے ہیں۔’’میں سائنسدان نہیں ہوں، مگر میں آپ کو بتا دوں اگر یہ معلومات درست ہیں تو اس بات کے امکانات ہیں کہ ایٹمی ہتھیاروں پر کام کیا گیا ہے۔ لیکن میں ’’اگر‘‘ پر تین مرتبہ زور دینا چاہوں گا۔‘‘

البرادائی نے ان دستاویزات کا حوالہ دیا جو انہیں IAEA کے خفیہ ذرائع سے ملی ہیں۔ ان دستاویزات میں ایٹمی ری ایکٹروں میں مشتبہ کارروائیوں کا ذکر ہے۔ خفیہ دستاویزات میں یہ بھی درج ہے کہ ایران نے ایک میزائل کے ڈیزائن میں تبدیلیاں کر کے اس میں ایٹمی ہتھیاروں کو ہدف تک پہنچانے کی صلاحیت پیدا کی ہے۔

Techniker in iranischer Uran-Aufbereitungsanlage

ایران کی ایک جوہری تنصیب

البرادائی نے ایٹمی توانائی ایجنسی کی بورڈ میٹنگ سے خطاب کے بعد تہران سے اس سلسلے میں وضاحت طلب کی۔

دوسری جانب تہران حکومت نے ایٹمی پروگرام پر مذاکرات کے لئے ایک پیکیج عالمی طاقتوں کے حوالے کردیا ہے۔ بدھ کو تہران حکومت کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ اس پیکیج میں متعدد عالمی مسائل اور عالمی برادری سے مذاکرات کے لئے نئے مواقع اور تعاون کو موضوع بنایا گیا ہے۔ تاہم تہران نے یہ نہیں بتایا کہ یہ پیکیج کس طرح کا ہے، اس میں مذاکرات کے لئے کیا شرائط رکھی گئی ہیں اور آیا یہ عالمی برادری کی جانب سے تہران پر مزید سخت پابندیوں کی تیاری کوٹالنے کے لئے کافی ہے بھی یا نہیں۔

سلامتی کونسل کے پانچ مستقل ارکان اور جرمنی نے اپنی ایک حالیہ میٹنگ میں ایران پر زور دیا تھا کہ وہ فوری طور پر بامقصد مذاکرات پر آمادہ ہو جائے ورنہ اس کے خلاف پابندیاں مزید سخت کر دی جائیں گی۔

امریکی صدر باراک اوباما نے بھی ایران کو تنبیہہ کی تھی کی وہ ستمبر میں سلامتی کونسل کے اجلاس سے قبل بامقصد مذاکرات پر آمادہ ہو جائے۔ تہران کا اس حوالے سے اصرار رہا ہے کہ مذاکرات کا پلیٹ فارم بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی ہے، سلامتی کونسل نہیں۔

ایرانی صدر محمود احمدی نژاد نے اپنے ایک حالیہ بیان میں باراک اوباما سے کہا کہ وہ میڈیا کی موجودگی میں ایران کے ایٹمی پروگرام پر کہیں بھی بات کرنے کے لئے تیار ہیں۔

رپورٹ: عاطف توقیر

ادارت: گوہر گیلانی