1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

ایران نے تیز رفتار ڈرون بنالیا

ایران نے بغیر پائلٹ کا چھوٹا جنگی طیارہ تیار کرنے کا اعلان کیا ہے۔ ’کرار‘ نامی یہ طیارہ مبینہ طور پر بڑی تیز رفتاری سے اپنے ہدف کو نشانہ بناسکتا ہے۔

default

ایرانی صدر محمود احمدی نژاد نے تہران میں اس طیارے کی تقریب رونمائی میں شرکت کی۔ صدر احمدی نژاد نے اس موقع پر خطاب میں کہا کہ ’کرار‘ دشمنوں کے لئے موت اور انسانیت کے لئے عظمت و نجات کا پیغام ہے۔

کرار کا نام مسلمانوں کے چوتھے خلیفہ حضرت علی کے نام سے منسوب ہے۔ چار میٹر طویل یہ ڈرون طیارہ چار کروز میزائل لے جانے کی صلاحیت رکھتا ہے اور اس کی رینج ایک ہزار کلومیٹر تک بتائی جارہی ہے۔ اس ڈرون طیارے کی رونمائی کی تقریب اتوار کی صبح ایرانی دارلحکومت کی ملک اشتھر یونیورسٹی میں منعقد کی گئی تھی۔

Irans Bomben-Drohne Karar

22 اگست کا یہ دن اس لئے بھی ایران میں اہمیت کا حامل ہے کہ یہ دفاعی صنعت کے قومی دن کے طور پر منایا جاتا ہے۔ ایران میں رواں پورا ہفتہ حکومت کے ہفتے کے طور پر منایا جارہا ہے۔ دو روز قبل ہی ایران نے طویل فاصلے تک مار کرنے والے قیام نامی میزائل کا بھی تجربہ کیا تھا۔

اسی ہفتے میزائل بردار سپیڈ بوٹس سراج اور ذولفقار کی تقریب رونمائی بھی متوقع ہے۔ فتح میزائل نامی نئے میزائلوں کی پیداوار کا اعلان بھی کیا جاسکتا ہے۔ ایرانی بحریہ میں حال ہی میں چار نئی آبدوزیں بھی شامل کی جاچکی ہیں۔

اگلے چند دنوں میں تہران کی جانب سے ایسے مزید تجربات کئے جانے کا امکان ہے جس کا مقصد دنیا پر ایرانی دفاعی صلاحیت واضح کرنا بتایا جاتا ہے۔

اتوار کو ایران کے سرکاری ٹیلی وژن پر نشر کی گئی رپورٹ میں ڈرون طیارے، کرار کو پرواز کرتے ہوئے دکھایا گیا۔ اس ڈرون طیارے کو ایرانی دفاعی صنعت میں جدت کی علامت کے طور پر پیش کیا جارہا ہے۔ ایران میں جاسوسی کی غرض سے بغیر پائلٹ کے اڑنے والے طیارے 80ء کی دہائی سے بنائے جارہے ہیں۔

Iran stellt bei Parade neue Mittelstreckenrakete vor

ایران میں رواں ہفتے دفاعی آلات کے مزید تجربات کئے جانے کا امکان ہے

1980ء تا 88ء کے دوران عراق سے جنگ کے بعد سے ایران اپنے یہاں جنگی طیارے، میزائل اور ٹینک جیسا بھاری اسلحہ بنارہا ہے۔ اس کی ایک وجہ امریکہ کی جانب سے ایران کو اسلحہ برآمد کرنے پر عائد پابندیاں بھی ہیں۔

ایرانی دفاعی صلاحیت میں حالیہ اضافے کے اقدامات ایسے وقت میں کئے دیکھے جا رہے ہیں جبکہ ایرانی حکام کسی بھی بیرونی حملے کا سخت جواب دینے کی بات کر رہے ہیں۔ تہران حکومت امریکہ اور اسرائیل پر شاکی ہے کہ وہ ایران کی جوہری تنصیبات پر حملہ کرسکتے ہیں۔ ان دونوں ممالک کی جانب سے ایسے امکان کو رد نہیں کیا گیا۔

رپورٹ: شادی خان سیف

ادارت: عصمت جبیں

DW.COM