1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

ایران نواز عراقی شیعہ ملیشیا اتحاد کا شام جا کر لڑنے کا عزم

ایران نواز عراقی شیعہ ملیشیا گروپوں کے اتحاد الحشد الشعبی نے کہا ہے کہ اس کے جنگجو سرحد پار کر کے شام جا کر صدر بشار الاسد کی فوجوں کے شانہ بشانہ شامی باغیوں اور جہادیوں کے خلاف لڑنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

عراقی دارالحکومت بغداد سے ہفتہ انتیس اکتوبر کو موصولہ نیوز ایجنسی روئٹرز کی رپورٹوں کے مطابق الحشد الشعبی کے ایک ترجمان نے کہا کہ یہ ملیشیا اتحاد عراق سے دہشت گرد گروہ ’اسلامک اسٹیٹ‘ یا داعش کا صفایا کرنے کے بعد اپنے فائٹرز کو عراقی سرحد کے پار شام بھیجنے کا منصوبہ رکھتا ہے، جو وہاں شامی صدر بشار الاسد کی حمایت میں لڑیں گے۔

بغداد کے شیعہ اکثریتی علاقوں میں داعش کے حملے، سو سے زائد ہلاکتیں

شام میں کم از کم چار سو ایرانی جنگجو مارے گئے، شہداء فاؤنڈیشن
جہادی شام نہ جا سکیں، عراق میں شیعہ ملیشیا کا نیا ہدف

روئٹرز نے لکھا ہے کہ عراقی شیعہ ملیشیا گروپوں کے جنگجو پہلے ہی شامی خانہ جنگی میں اسد حکومت کی طرف سے شامی باغیوں اور وہاں سرگرم جہادی گروپوں کے خلاف لڑ رہے ہیں۔ تاہم اس وقت الحشد الشعبی نامی ملیشیا اتحاد کے فائٹر عراقی حکومت کی ان عسکری کوششوں میں بھی شریک ہیں، جو شمالی عراقی شہر موصل کو داعش کے قبضے سے چھڑانے کے لیے کی جا رہی ہیں۔

USA unterstüzen Angriff der irakischen Armee auf Tikrit (Reuters/Al-Sudani)

عراقی شیعہ ملیشیا گروپوں کے جنگجو پہلے ہی شامی خانہ جنگی میں اسد حکومت کی طرف سے شامی باغیوں اور وہاں سرگرم جہادی گروپوں کے خلاف لڑ رہے ہیں

بغداد سے آمدہ رپورٹوں میں اس ملیشیا اتحاد کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ عراق میں ’اسلامک اسٹیٹ‘ کے خلاف حتمی عسکری کامیابی کے بعد اس ملیشیا اتحاد کی، جس کے نام کا مطلب عوام کو تحریک دینے کا عمل ہے، شامی تنازعے میں اسد نواز دھڑے کے طور پر مسلح شرکت کو باقاعدہ ایک شکل دے دی جائے گی۔

روئٹرز کے مطابق عراقی دارالحکومت میں الحشد الشعبی کے ترجمان احمد الاسدی نے ہفتے کے روز ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا، ’’اپنی سرزمین کو ان تمام دہشت گرد گروہوں سے پاک کرنے کے بعد ہم اس بات پر بالکل تیار ہیں کہ کسی بھی دوسری جگہ جا کر وہاں سے اٹھنے والے عراق کی قومی سلامتی کو درپیش ہر طرح کے خطرے کا قلع قمع کریں۔‘‘

DW.COM