1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

ایران میں یوم طلبہ، پرتشدد احتجاج

ایران میں پیر کو پولیس اور طلبہ کے درمیان مختلف شہروں میں مظاہروں کے دوران جھڑ پیں ہوئیں۔ ایرانی طلبہ کی طرف سے نکالی گئی ریلی اس وقت پرتشدد ہوگئی، جب پولیس نے انہیں یونیورسٹیوں تک ہی محدود رکھنے کی کوشش کی۔

default

ایرانی طلباء کی جانب سے منایا جانے والا اسٹوڈنٹ ڈے اس وقت پر تشدد ہوگیا، جب ایرانی نیشنل گارڈز نے انہیں مختلف یونیورسٹیوں سے نکلنے ہی نہیں دیا۔ ایران میں پرتشدد ہنگاموں کا آغاز رواں برس جون سے ہوا تھا، جب اپوزیشن نے صدارتی الیکشن کے نتائج کو متنازعہ قرار دیتے ہوئے احمدی نژاد کے دوبارہ صدر کے منصب پر فائض ہونے پر سخت احتجاج کیا تھا۔

Studentenprotest Teheran Iran

ایک جامعہ کے باہر تعینات سیکیورٹی فورسز کے دستے

پولیس نے طلبہ کو منتشر کرنے کے لئے متعدد جگہوں پر آنسو گیس اور لاٹھی چارج کا بھی استعمال کیا ہے۔ مختلف خبررساں اداروں کے مطابق بہت سے طلبہ کو گرفتار بھی کیا گیا ہے۔ سات دسمبر کا دن ایرانی طلبہ کی طرف سے ایک سٹوڈنٹ ڈے کے طور پر منایا جاتا ہے۔ طلبہ اس دن کو اپنے ان تین ساتھیوں کی ہلاکت کی یاد میں مناتے ہیں، جنہیں 1953 میں شہنشاہ ایران کے سیکیورٹی دستوں نے ہلاک کردیا تھا۔ جس کے چند ماہ بعد غیر ملکی مداخلت سے اس وقت کے وزیر اعظم محمد مصدق کے خلاف بغاوت ہوئی تھی۔ اسی پس منظر میں پیر کے روز 7 دسمبر کو ایرانی طلبہ تہران کی مختلف یونیورسٹیوں میں اکٹھے ہوئے۔ انہوں نے عام لوگوں سے بھی اپیل کی تھی کہ وہ بھی ان مظاہروں مین شریک ہوں۔ جبکہ حکومتی موقف یہ تھا کہ طلبہ کی یہ ریلی حکومت مخالف سیاسی لیڈران ہائی جیک کرلیں گے اور اسٹوڈنٹ ڈے کے نام پر نکالی گئی یہ ریلی حکومت مخالف ریلی کی شکل اختیار کر لے گی۔

Iran Demonstration gegen Diktator

ان مظاہروں میں شامل بہت سے طلبہ کو گرفتار کیا گیا ہے

تہران حکومت نے انہی تحفظات کے پیش نظر سادہ کپڑوں میں ملبوس ہزاروں سکیورٹی اہلکار مختلف یونیورسٹیوں میں تعینات کئے تھے۔ حکام کی طرف سے غیرملکی میڈیا کے نمائندوں کو اجازت نہیں تھی کہ وہ اپنے دفاتر سے باہر نکل کر ان مظاہروں کی کوریج کریں۔ تہران میں انٹرنیٹ اور موبائیل ٹیلی فون کی لائنیں ہفتے کی شام سے ہی بند کردی گئیں تھیں۔

تہران میں حالیہ جون سے جاری حکومت مخالف مظاہروں کے اہم ترین سرگرم اور اپوزیشن لیڈرمیرحسن موسوی کو ایرانی اسٹوڈنٹ کی بہت حمایت حاصل رہی ہے۔ اپوزیشن پارٹی اور اسٹوڈنٹس کے درمیان رابطوں کے لئے اپوزیشن کی ویب سائٹ اور موبائل میسجز نے بہت اہم کردار ادا کیا ہے۔ اسی لئے حکومت نے انٹرنیٹ اور پیغام رسانی کے دیگر ذ‌رائع ناکارہ بنا کر کسی حد تک پیر کو ہونے والے اس مظاہرے کو کنڑول کرنے کی کوشش کی۔

تہران یونیورسٹی، امیرکبیر یونیورسٹی، یونیورسٹی آف فائن آرٹس اور طلبہ کے دیگر بڑے مراکز میں پولیس اور طلبہ کے مابین تصادم کے واقعات رونما ہوئے۔

رپورٹ : عبدالرؤف انجم

ادارت : کشور مصطفیٰ