1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

ایران میں پابندی کے باوجود موسوی کی ریلی

ایرانی وزارت داخلہ کی جانب سے عائد پابندی کے باوجود پیر کو تہران کے شمال میں اپوزیشن کے ہزاروں حامیوں نے ایک ریلی نکالی ہے جس میں ہزاروں افراد شریک ہیں۔ میر حسین موسوی نے دوبارہ صدارتی انتخابات کرانے کا مطالبہ کیا ہے۔

default

سابق وزیر اعظم میر حسین موسوی کی ریلی میں شریک خاتون

ایران میں سابق وزیر اعظم میر حسین موسوی کی ریلی کو سخت گیر ملیشیا بسیج کی فائرنگ کا سامنا کرنا پڑا۔ ریلی کے شرکاء نے ملیشیاء کی عمارت پر دھاوا بولا تھا۔ جواباً ملیشیاء نے فائرنگ کی اور کم از کم ایک احتجاجی کی ہلاکت کی تصدیق کردی گئی ہے۔ میر حسین موسوی کی ریلی میں ہزاروں افراد شریک تھے۔

دریں اثناء صدارتی امیدوار میر حسین موسوی کی جانب سے انتخابات کے نتائج میں دھاندلی سے متعلق کی گئی اپیل کا فیصلہ مجلس شوریٰ آئندہ سات سے دس روز میں کرے گی۔

ایرانی وزارت داخلہ نےیہ واضح کر دیا تھا کہ میر حسین موسوی کے حامیوں کے مظاہرے جاری رہے تو نتائج کے ذمہ دار یہ صدارتی امیدوار خود ہوں گے۔ اِس کے بعد اگرچہ ابتدا میں آج کا مظاہرہ ملتوی کرنے کا اعلان سامنے آیا تاہم پھر اِس اعلان کے باوجود اپوزیشن کے ہزاروں ارکان سڑکوں پر نکل آئے۔

Iran Proteste

حالیہ صدارتی انتخابات میں شکست سےدوچار ہونے والے میر حسین موسوی کے حامیوں کے خلاف پولیس کارروائی کا ایک منظر

انتخابی نتائج جاری ہونے کے بعد میر حسین موسوی آج پہلی مرتبہ کسی اجتماع میں شرکت کرتے ہوئے کہا کہ لوگوں کے دئے گئے ووٹ کی اہمیت موسوی یا کسی اور شخص سے کہیں زیادہ ہے۔ انتخابات میں ناکامی کے بعد اتوار کو موسوی نے مجلس شوریٰ سے قانونی اپیل کی تھی، جس میں انتخابات کے نتائج کو منسوخ کرنے اور اس میں کی جانے والی دھاندلی کے حوالے سے تحقیقات کرنے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ مجلس شوریٰ کے مطابق تحقیقات کی رپورٹ جلد سامنے آجائے گی۔

Labour Parteitag in Manchester David Miliband

ایران میں ووٹوں کی گنتی کے عمل کے شفاف ہونے سے متعلق ملک کے اندر بھی شکوک و شبہات سامنے آرہے ہیں: برطانوی وزیر خارجہ ملی بینڈ

دریں اثناء یورپی یونین نے تہران حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ انتخابی نتائج کی جانچ پڑتال کروائے مگر ساتھ ہی اس اسلامی ریاست کے ساتھ اچھے تعلقات کی بھی ضرورت پر زور دیا ہے۔ یورپی یونین نے مظاہرین کے خلاف تہران حکومت کی جانب سے طاقت کے استعمال پر تنقید کی ہے۔ برطانوی وزیر خارجہ ڈیوڈ ملی بینڈ نے کہا:


’’ہمیں ایران کے تازہ حالات پر گہری تشویشش ہے۔ انتخابات میں ڈالے گئے ووٹوں کی گنتی کے عمل کے آزادانہ اور شفاف ہونے سے متعلق ملک کے اندر بھی شکوک و شبہات سامنے آرہے ہیں۔‘‘


برطانوی وزیر خارجہ کے ساتھ ساتھ نائب امریکی صدر جو بائیڈن نے بھی تہران حکومت کی جانب سے عائد کی گئی مختلف پابندیوں پر تنقید کی ہے تاہم امریکی صدر باراک اوباما نے ایران کے بارے میں بہت محتاط رویہ اختیار کرتے ہوئے کہا:

’’دونوں ممالک کے مابین بہت سے موضوعات پر مذاکرات ہ سکتے ہیں اور ہم بغیر کسی طرح کی شرائط کے باہمی احترام کی بنیادوں پر آگے بڑھنے کے خواہاں ہیں۔‘‘

عالمی ذرائع ابلاغ کے مطابق ایرانی حکومت نے انتخابی نتائج کے بعد مظاہروں کو روکنے کے لئے طاقت کا بے دریغ استعمال کیا ہے اور ان مظاہروں میں شریک ایک سو سے زائد افراد کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ ایرانی حکومت کی جانب سے SMS اور انٹرنیٹ ویب سائٹس پر پابندی کی دنیا بھر میں مذمت کی جا رہی ہے۔

DW.COM