1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

وجود زن

ایران میں پابندی کی شکار کھلاڑی اب امریکا کی ٹیم میں شامل

ایران کی ایک نامور شطرنج کی کھلاڑی، جسے ہیڈ اسکارف نہ پہننے پر اپنے ملک میں پابندی کا سامنا تھا، اب  امریکا کے لیے شطرنج کا کھیل کھیلے گی۔

تھامسن روئٹرز فاؤنڈیشن کی رپورٹ کے مطابق انیس سالہ ڈوسرا ڈیراکھشانی پر ’ایرانی چیس فیڈریشن‘ نے اس لیے پابندی عائد کر دی تھی کیوں کہ اس سال جنوری میں ڈوسرا نے ’جبرالٹر‘ نامی شطرنج کے مقابلے میں اپنا سر نہیں ڈھانپا تھا۔

اس واقعے کے بعد سے یہ نوجوان لڑکی اب امریکا میں رہائش پذیر ہے، جہاں وہ سینٹ لوئس یونیورسٹی کی طالبہ ہے اور اس تعلیمی ادارے کی شطرنج کی ٹیم کا حصہ بھی ہے۔ امریکی چیس فیڈریشن کی ویب سائٹ پر شائع ہونے والی تفصیلات کے مطابق اب ڈوسرا سرکاری طور پر امریکا میں چیس کی کھلاڑی بن گئی ہیں۔

ڈوسرا نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے، ’’میں اب امریکی چیس فیڈریشن کے لیے شطرنج کھیل کر بہت اچھا محسوس کرتی ہوں۔ مجھے یہاں خوش آمدید کیا گیا ہے اور مجھے ان کی حمایت حاصل ہے۔‘‘ گزشتہ ہفتے ایک ریڈیو پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے ڈوسرا نے کہا، ’’اب مجھے ایک اچھے استاد کی تلاش ہے اور میں اس کھیل کی ماسٹر بننا چاہتی ہوں۔‘‘ ایرانی چیس فیڈیریشن نے نہ صرف ڈوسرا بلکہ اس کے بھائی پر بھی پابندی عائد کر دی ہے کیوں کہ جبرالٹر مقابلے میں اس نے ایک اسرائیلی لڑکے کے ساتھ چیس کھیلی تھی۔

Iran Dorsa Derakhshani beim Gibraltar-Chess-Kongress 2017 (Sophie Triay)

یہ نوجوان لڑکی اب امریکا میں رہائش پذیر ہے

ڈوسرا کا کہنا ہے کہ وہ پہلے بھی اپنا سر ڈھانپے بغیر چیس کھیل چکی ہيں اور اس پر پابندی دیگر وجوہات کی بنا پر لگائی گئی ہے۔ ڈوسرا پر پابندی کا اعلان تہران میں ’ویمنز ورلڈ چیس ‘ کے مقابلے کے دوران کیا گیا جس میں تینوں ایرانی کھلاڑی ہار گئی تھیں۔ ڈوسرا کا کہنا ہے،’’ تہران کی  انتظامیہ کو اس معاملے سے توجہ ہٹانی تھی اور اس مقصد میں وہ کامیاب ہو گئے کیوں کہ ہر کوئی ہمارے بارے میں بات کرنے لگا۔‘‘

DW.COM

ملتے جلتے مندرجات