1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

ایران میں منشیات کی اسمگلنگ کے قوانین میں نرمی

ایرانی پارلیمنٹ نے منشیات کی اسمگلنگ کے قوانین میں نرمی کی قرارداد منظور کر لی ہے۔ منشیات فروشوں کے لیے ایرانی میں انتہائی سخت قوانین نافذ تھے۔ ترمیم سے منشیات کے کئی مقید اسمگلروں کو رعایت حاصل ہو سکے گی۔

منشیات کی اسمگلنگ میں ترمیم کے بعد ایران کی عدالت کے جج کو یہ اختیار حاصل ہو جائے گا کہ وہ شک کی بنیاد پر اسمگلنگ میں ملوث کسی بھی ملزم کو انتہائی سخت سزا کی جگہ کم سزا کا مرتکب ٹھہرا سکے گا۔ ایران میں منشیات کی اسمگلنگ کی سزا موت ہے۔ اس وقت کئی قیدی منشیات کی اسمگلنگ کے جرم میں اپنی موت کی سزا کے منتظر ہیں۔

سزائے موت سے منشیات کی اسمگلنگ کم نہیں ہوتی، ایرانی عدلیہ

’انڈونیشیا میں شہری کو موت کی سزا، اسلام آباد حکومت کچھ کرے‘

دنیا کا سب سے مطلوب اسمگلر ایک مرتبہ پھر گرفتار

منشیات کے استعمال اور اس کی اسمگلنگ کی روک تھام کا عالمی دن

نئی قانونی ترمیم میں یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ اگر کسی ڈرگ اسمگلر کے قبضے سے دو کلو گرام یا اس سے زائد مقدار میں طاقتور منشیات دستیاب ہوتی ہیں تو اُسے موت کی سزا سنائی جا سکے گی۔ اس قانون سے قبل تیس گرام منشیات ملنے پر موت کی سزا سنائی جاتی رہی ہے۔ جن منشیات میں رعایت دی گئی ہے، اُس میں ہیروئن اور کوکین کے علاوہ جنسی تشفی کی ڈرگز کو بھی شامل کیا گیا ہے۔ ابھی اس قانون کی منظوری قدامت پسند شوریٰ نگہبان کی جانب سے دی جانا باقی ہے۔ اندازہ لگایا گیا ہے کہ ایران کا اعلیٰ دستوری ادارہ اس قانون سازی کی توثیق کر دے گا۔

Iran Bildergalerie 04-11 Flash-Galerie (MEHR)

ایران میں گرفتار کیا گیا منشیات فروشوں کا گروپ

نئے قانون میں منشیات فروشوں کے سرغنہ کے لیے موت کی سزا برقرار رکھی گئی ہے۔ یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ ایسے منشیات فروش جو آتشیں ہتھیار سے لیس ہوں گے اور کم سن افراد کے ساتھ زیادتی کا ارتکاب کریں گے، وہ بھی موت کی سزا کے حقدار ہوں گے۔ اسی طرح مسلسل جرائم کا ارتکاب کرنے والوں کے لیے بھی موت کی سزا نئے قانون میں شامل کی گئی ہے۔

ایرانی پارلیمنٹ نے کل اتوار تیرہ اگست کو اس قانون کی منظوری دی ہے۔ اس کی منظوری کے لیے اراکین پارلیمان کئی مہینوں سے بحث و تمحیص جاری رکھے ہوئے تھے۔ امکان پیدا ہوا ہے کہ اس قانون کے نفاذ کے بعد موت کی سزا پر عملدرآمد کے منتظر قیدیوں کی سزائیں ختم ہو جائیں گی اور بہت سارے نئی سزاؤں کے تعین کے نتیجے میں رہائی بھی پا سکیں گے۔

DW.COM