1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

ایران میں مظاہرے: بیرونی مداخلت کا ’کوئی ثبوت نہیں‘

ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای نے کہا ہے کہ ان کے پاس ایسے ٹھوس ثبوت موجود نہیں جو ثابت کر سکیں کہ ملک میں حالیہ صدارتی انتخابات کے متنازعہ نتائج کے خلاف پر تشدد مظاہروں کی پشت پناہی غیر ممالک نے کی۔

default

آیت اللہ علی خامنہ ای

سرکاری ٹیلی ویژن پر خامنہ ای کا یہ بیان بدھ کو پڑھ کر سنایا گیا جس میں انہوں نے کہا: ’میں اپوزیشن لیڈروں پر یہ الزامات عائد نہیں کر سکتا کہ انہوں نے امریکہ یا برطانیہ جیسے غیر ممالک کے بہکانے پر حالیہ پر تشدد کارروائیوں میں حصہ لیا، کیونکہ میرے پاس اس کا کوئی ثبوت موجود نہیں‘۔ ایرانی لیڈر نے اپنے بیان میں مزید کہا: "ہمیں مظاہروں کے پیچھے کارفرما عناصر کے بارے میں افواہوں اور قیاس آرائیوں پر انحصار نہیں کرنا چاہئے۔ عدلیہ کو فیصلہ ٹھوس شواہد کی بنیاد پر دینا چاہئے نہ کہ قرآئنی شہادت پر‘۔

خامنہ ای نے تقریبا اسی طرح کا ایک بیان تہران یونیورسٹی کے طلبہ کے ساتھ ایک ملاقات میں بھی دیا جس میں انہوں نے کہا: ’اس میں شکوک وشبہات کی کوئی گنجائش نہیں کہ اس احتجاجی مہم کی منصوبہ بندی الیکشن سے بہت پہلے کی گئی تھی‘۔

Iran lässt Clotilde Reiss gegen Kaution frei

مظاہرین کے ساتھ گرفتار کی گئی تہران یونیورسٹی کی فرانسیسی ٹیچر کو بعد ازاں ضمانت پر رہا کر دیا گیا

ایران میں چند انتہاپسند سیاستدان بارہا یہ مطالبے کرتے رہے ہیں کہ ایسے اپوزیشن لیڈروں کو گرفتار کیا جائے جو یہ دعوے کرتے ہیں کہ محمود احمدی نژاد کو دوبارہ برسر اقتدار لانے کے لئے جون کے صدارتی انتخابات میں دھاندلی کی گئی۔ ایران کی ایک خبر ایجنسی کے مطابق سابق ایرانی صدر خاتمی نے کہا ہے کہ بہت سے واقعات میں مظاہرین سے اقرار جرم غیر معمولی ماحول میں کروایا گیا، جو باطل اور فسخ تھا۔ ذرائع کے مطابق، جون کے انتخابات کے بعد سے مظاہرین پر چلائے جانے والے مقدمات کی سماعت کے چوتھے مرحلے میں گزشتہ منگل کو ایک سینئر اصلاحات پسند رہنما اور سابق صدر محمد خاتمی کے ساتھی سعید ہجریان نے ایک بیان میں کہا کہ الیکشن کے دوران انہوں نے بہت سے غیرمناسب اورغلط جائزے پیش کرکے بہت بڑی غلطی کی۔

ہجریان نے کہا کہ وہ ایرانی عوام سے اپنی ان غلطیوں کی معافی چاہتے ہیں۔ دریں اثناء حالیہ مقدمات کی پیروی کرنے والے ایک وکیل استغاثہ نے مطالبہ کیا ہے کہ ہجریان کو ان غلطیوں کی سنگین سزا دی جائے، کیونکہ "ہجریان کے یہ اقدامات قومی سلامتی کے خلاف تھے۔ یہ ایک ایسا جرم ہے جس کے سبب انہیں سزائے موت بھی ہو سکتی ہے"۔

قبل ازیں بدھ کے روز سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے یہ بھی کہا کہ ایران میں حالیہ بحران کو ہوا دینے کی تمام کوششیں ناکام رہی ہیں، کیونکہ ایران کے دشمنوں کو اب تک اس ملک کے اصل مسائل کا اندازہ ہی نہیں ہے۔ "ایران کے دشمنوں کے منہہ پر ایرانی عوام نے طمانچہ لگایا ہے لیکن وہ پھر بھی ایران میں انتشار پھیلانے کی کوششوں میں مصروف ہیں"۔

Iran Wahlen Präsident Ayatollah Chamenei Ernennung von Mahmud Ahmadinedschad

خامنہ ای احمدی نژاد کو دوسری مدت کے لئے سند صدارت دیتے ہوئے

علی خامنہ ای نے تین اگست کو حالیہ انتخابی عمل کو درست تسلیم کرتے ہوئے احمدی نژاد کے دوبارہ صدر کے عہدے پر فائز ہونے کی تصدیق کر دی تھی۔ بارہ جون کے صدارتی انتخابات کے متنازعہ نتائج ایران کی سڑکوں پر خونریز مظاہروں کا باعث بنے۔ اس وقت تہران حکومت نے احمدی نژاد کے حریف میر حسین موسوی اور ناکام قرار دئے جانے والے دیگر امیدواروں سمیت غیر ملکی حکومتوں پر ایران میں سیاسی بحران اور انتشار کی آگ کو ہوا دینے کا الزام عائد کیا تھا۔ انہی احتجاجی مظاہروں کے دوران ایران نے دو برطانوی سفارتکاروں کو جون ہی میں واپس ان کے وطن بھیج دیا تھا جس کے رد عمل میں برطانیہ نے بھی چند ایرانی سفارت کاروں کو واپس تہران چلے جانے کا حکم دے دیا تھا۔

تہران حکومت نے الیکشن کے بعد ملک میں سیاسی بحران اور عدم استحکام کے پیش نظر غیرملکی میڈیا کی طرف سے ان حالات کی کوریج پرپابندی بھی عائد کر دی تھی۔ انہی دنوں میں بی بی سی کے ایک نامہ نگار سمیت متعدد غیرملکی صحافیوں کو ایران سے نکل جانے کا حکم دے دیا تھا۔

ایرانی حکومت کی طرف سے احمدی نژاد کے دوبارہ صدر بننے کے متنازعہ بن جانے والے واقعے کے خلاف مظاہرے کرنے والے شہریوں میں سے 140 سے زائد افراد کے خلاف مقدمات چلائے گئے، جن میں تہران میں برطانوی اور فرانسیسی سفارتخانوں کے تین مقامی ملازمین کے علاوہ ایک فرانسیسی ٹیچر بھی شامل تھی۔

رپورٹ: کشور مصطفےٰ

ادارت: مقبول ملک

DW.COM