1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

ایران میں طاقت کی رسہ کشی: صدارتی نظام کو خطرہ؟

ایران کی اعلٰی قیادت کے درمیان اختلافات کے تناظر میں ملک کے رہبر اعلٰی آیت اللہ علی خامنہ ائی نے متنبہ کیا ہے کہ کسی روز ملک میں منتخب صدر کے عہدے کی بساط لپیٹی جا سکتی ہے۔

default

ایرانی رہبر اعلٰی آیت اللہ علی خامنہ ائی

مغربی شہر کرمانشاہ میں ایک اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا، ’’صدر کا انتخاب عوام کے براہ راست ووٹوں سے ہوتا ہے، جو ایک اچھا اور مؤثر طریقہ ہے، لیکن اگر مستقبل میں یہ محسوس کیا گیا کہ پارلیمانی نظام حکومت ملک کے لیے بہتر ہے تو موجودہ ڈھانچے کو تبدیل کرنے میں کوئی مسئلہ نہیں ہو گا۔‘‘

اگرچہ مستقبل قریب میں اس تبدیلی کا کوئی امکان دکھائی نہیں دیتا مگر خامنہ ائی کی جانب سے صرف اس بات کا اشارہ کرنے سے ہی یہ ظاہر ہو جاتا ہے کہ ان کے اور صدر محمود احمدی نژاد کے درمیان اقتدار کی کھینچا تانی کیا رخ اختیار کر چکی ہے۔

امریکہ کی Syracuse University میں ایرانی امور پر تحقیق کرنے والے مہر زاد بروجردی کا کہنا ہے، ’’اس سے دونوں شخصیات کے درمیان اختلافات کی شدت ظاہر ہوتی ہے۔ خامنہ ائی یہ باور کرانے کی کوشش کر رہے ہیں کہ موجودہ نظام سے کس حد تک اختلاف کی گنجائش موجود ہے اور خود ان کے ہاتھ میں کتنے مضبوط پتے ہیں۔‘‘

Mahmud Ahmadinedschad

صدر محمود احمدی نژاد نے رواں سال کے اوائل میں اپنی ناراضگی کا اظہار کرنے کے لیے دس روز تک کابینہ کے اجلاسوں کا بائیکاٹ کیا تھا

اس سے آئندہ برس مارچ میں ہونے والے پارلیمانی انتخابات میں سخت گیر مؤقف کے حامل ملاؤں کی حکمت عملی کی بھی نشاندہی ہوتی ہے۔

سخت گیر مؤقف رکھنے والے ملاؤں کے ساتھ ساتھ انتہائی بااثر پاسداران انقلاب پر مشتمل ایران کی برسر اقتدار ہئیت حاکمہ میں اس اندرونی مناقشت پر قابو پانے کی کوششیں بڑھ رہی ہیں۔ ان اختلافات کو ایسے وقت میں غیر سازگار تصور کیا جا رہا ہے جب ملک کو بین الاقوامی سطح پر متعدد مسائل کا سامنا ہے جن میں مغرب کے ساتھ جوہری مذاکرات کا دوبارہ آغاز، ایران میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر تنقید اور امریکا کی جانب سے ایران پر یہ الزام شامل ہیں کہ پاسداران انقلاب کا ایک خصوصی دستہ امریکی سرزمین پر سعودی سفارت کار کے قتل کی سازش میں ملوث تھا۔

Mullahs

ایران کے برسر اقتدار ملاؤں اور صدور کے درمیان ایک دہائی سے کشمکش جاری ہے

ایرانی صدر نے رواں برس کے اوائل میں خامنہ ائی کی جانب سے انٹیلیجنس کے وزیر کے انتخاب پر بطور احتجاج دس روز تک کابینہ کے اجلاسوں کا بائیکاٹ کیا تھا۔ حالیہ دنوں میں صدر کے درجنوں حامیوں کو بھی گرفتار کیا گیا ہے۔ تاہم ابھی تک ان کے چیف آف اسٹاف اور سسرالی رشتہ دار اسفندیار رحیم مشائی محفوظ ہیں حالانکہ وہ بھی ملاؤں کے زیر اثر نظام پر اعتراض کر چکے ہیں۔

ایران کے برسر اقتدار ملاؤں اور صدور کے درمیان ایک دہائی سے کشمکش جاری ہے اور پہلے اصلاح پسند صدر خاتمی اور اب احمدی نژاد ان کا نشانہ ہیں۔ ایران کے ’اسلامی جمہوری‘ نظام کے تحت صدر اور پارلیمان منتخب ہوتے ہیں مگر غیر منتخب ملاؤں کی کونسل اس کی نگرانی کرتی ہے۔ کونسل کو قانون سازی اور منتخب عہدوں کے امیدواروں کی توثیق کرنے کا اختیار ح‍اصل ہے اور ملک کی طاقتور عدلیہ بھی اس کے ماتحت ہے۔

رپورٹ: حماد کیانی/خبر رساں ادارے

ادارت: شامل شمس

DW.COM