1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

ایران میں صدارتی انتخابات کی دوڑ میں کون کون شامل؟

ایران میں آئندہ ماہ ہونے والے صدارتی انتخابات کے لیے کاغذات نامزدگی جمع کرانے کا آج ہفتے کو آخری دن ہے۔ اب تک صدر روحانی، احمدی نژاد اور ایرانی سپریم لیڈر خامنہ ای کے معتمدِ خاص ابراہیم رئیسی اپنے کاغذات جمع کرا چکے ہیں۔

ایرانی صدر حسن روحانی بھی دوسری مدت کے لیے صدر بننے کے خواہش مند ہیں۔ انہوں نے صدارتی انتخابات میں حصہ لینے کے لیے اپنے کاغذات نامزدگی بھی جمع کرا دیے ہیں۔ صدر روحانی اصلاحات پسند سیاسی رہنما سمجھے جاتے ہیں۔ دوسری مرتبہ صدر بننے کی صورت میں انہوں نے ایرانی عوام کے لیے ’زیادہ آزادی اور امن‘ یقینی بنانے کا وعدہ کیا ہے۔

روحانی کے دور اقتدار میں ہی سن 2015 میں ایران اور عالمی طاقتوں کے مابین تہران کے متنازعہ جوہری پروگرام سے متعلق ایک تاریخی معاہدہ طے پایا تھا، جس کے بعد ایران پر عائد پابندیوں میں نرمی کر دی گئی تھی۔ ایران کے قدامت پسند حلقے اس معاہدے کے خلاف ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگلے ماہ ہونے والے صدارتی انتخابات ایک طرح سے اس معاہدے پر عوامی ریفرنڈم کی حیثیت رکھتے ہیں۔

اس مرتبہ صدارتی عہدے کے لیے انتخابی دوڑ میں قدامت پرستوں اور اصلاحات پسندوں کے مابین سخت مقابلہ متوقع ہے۔ اب تک چھ سو سے زائد افراد اپنے کاغذات نامزدگی جمع کرا چکے ہیں۔

ایرانی سپریم لیڈر علی خامنہ ای نے سابق صدر محمود احمدی نژاد کو الیکشن نہ لڑنے کا مشورہ دیا تھا۔ تاہم اس کے باوجود احمدی نژاد اور ان کے قریبی ساتھی حامد بقائی بھی صدارتی انتخابات کے لیے اپنے کاغذات جمع کرا چکے ہیں۔

اس مرتبہ کے انتخابات میں قدامت پرستوں کی جانب سے اہم امیدوار ابراہیم رئیسی ہیں۔ رئیسی ایرانی سپریم لیڈر کے معتمدِ خاص قرار دیے جاتے ہیں۔

ایران میں ملکی شوریٰ نگہبان صدارتی امیدواروں کے کاغذات کی چھان بین کرتی ہے۔ شوریٰ نگہبان قدامت پرست مذہبی رہنماؤں پر مشتمل ایک قومی ادارہ ہے اور اسی کی منظوری کے بعد حتمی امیدواروں کی فہرست رواں ماہ کی ستائیس تاریخ کو جاری کی جائے گی۔ حتمی فہرست جاری ہونے کے بعد ہی واضح ہو سکے گا کہ امسالہ صدارتی الیکشن میں اصل مقابلہ کن امیدواروں کے مابین ہو گا۔

DW.COM