1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

ایران میں خود کش حملہ، کم ازکم 39 ہلاک

ایران میں ہوئے ایک خود کش بم دھماکے کے نتیجے میں کم ازکم 39 افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔ بدھ کو یہ حملہ سیستان بلوچستان میں واقع امام حسین نامی ایک مسجد پراس وقت کیا گیا، جب شیعہ زائرین عاشورہ کےخصوصی جلوس میں شریک تھے۔

default

یہ حملہ اس وقت ہوا جب شیعہ زئراین عاشورہ منا رہے تھے

سنی عسکری تنظیم جند اللہ نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کر لی ہے۔ ایرانی حکام نے بتایا ہے کہ ایک پیدل خود کش حملہ آور نے یہ کارروائی کی۔ سیستان بلوچستان کے شہر چابہار کے ایک اعلیٰ سرکاری اہلکار محمود مظفر نے ILNA نیوز ایجنسی کو بتایا،’ تازہ ترین اطلاعات کے مطابق کم از کم 39 زائرین ہلاک جبکہ پچاس زخمی ہوئے ہیں۔‘ انہوں نے بتایا کہ ایک خودکش حملہ آور نے عزا داروں کے درمیان پہنچ کر یہ حملہ کیا،’ پیدل حملہ آور نے ہلال احمر کی ایمبولینس کے قریب پہنچ کر خود کو دھماکے سے اڑا دیا۔‘

طبی ذرائع نے بھی تصدیق کردی ہے کہ 39 لاشیں سرد خانے میں منتقل کی جا چکی ہیں جبکہ زخمیوں کے علاج معالجے کے لئے شہر کے ہسپتالوں میں ہنگامی صورحال کا نفاذ کر دیا گیا ہے۔ بتایا جا رہا ہے کہ ہلاک شدگان میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔ سیستان بلوچستان صوبے کے ایک سرکاری اہلکار Ali Bateni نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہیں اس حملے کے بارے میں پہلے سے ہی اطلاعات تھیں۔ ان کے مطابق دو خود کش بمباروں نے یہ کارروائی کرنا تھی تاہم ایک کو گرفتار کر لیا گیا تھا جبکہ دوسرا حملہ کرنے میں کامیاب ہو گیا۔

Aschura Fest

دیگر ممالک کی طرح ایران میں بھی عاشورہ عقیدت و احترام کے ساتھ منایاجاتا ہے

Ali Bateni نے ایسی خبروں کو رد کر دیا کہ تین خود کش حملہ آور تھے اور انہوں نے دو بم دھماکے کئے،’ دو دہشت گرد تھے، جن کو پہلے ہی جانچ لیا گیا تھا، لیکن ایک اپنی دھماکہ خیزجیکٹ کے ذریعے حملہ کرنے میں کامیاب ہو گیا۔‘ تاہم انہوں نے بتایا ہے کہ اس حملے کا ماسٹر مائنڈ گرفتار کر لیا گیا ہے۔ یہ حملہ اس وقت کیا گیا ہے، جب شیعہ مسلمان محرم الحرام کے سلسلے میں اپنے مقدس جلسے اور جلوس منعقد کر رہے تھے۔ ایک عرب ٹیلی وژن نے کہا ہے کہ سنی تنظیم جند اللہ نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کر لی ہے۔

خبررساں ادارے روئٹرز نے وزارت داخلہ کا حوالہ دیتے ہوے کہا ہے کہ دو خودکش حملوں میں تیس افراد ہلاک جبکہ سو سے زائد زخمی ہوئے ہیں۔

شیعہ اکثریت والے ملک ایران کا صوبہ سیستان بلوچستان اور بالخصوص یہ شہر چابہار، سنی مسلمانوں کا گڑہ سمجھا جاتا ہے۔ اس صوبے میں سنی عسکری تنظیم جند اللہ طویل عرصے سے تہران حکومت کے لئے پریشانی کا باعث بنی ہوئی ہے۔ اس تنظیم نے ماضی میں ہوئے ایسے کئی حملوں کی ذمہ داری قبول کر رکھی ہے۔ جولائی کے مہینے میں اسی صوبے میں واقع زاہدان نامی شہر میں ہوئے ایک خود حملے کے نتیجے میں پاسدارن انقلاب کے کئی کمانڈروں سمیت کُل 28 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔ اس حملہ کی ذمہ داری بھی جنداللہ نے قبول کی تھی۔ گزشتہ ماہ ہی امریکہ نے جنداللہ کو ایک غیر ملکی دہشت گرد تنظیم قرار دیا تھا۔

رپورٹ: عاطف بلوچ

ادارت: افسراعوان

DW.COM