1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

ایران میں جوہری تنصیبات کی جاسوسی کے الزام پر متعدد گرفتاریاں

ایران نے متعدد افراد کو جوہری تنصیبات کی جاسوسی کے الزام میں گرفتار کیا ہے۔ ایرانی خفیہ امور کی وزارت کے مطابق یہ افراد ممکنہ طور پر حساس معلومات کے حصول کی کوششوں میں تھے۔

default

ایران کا ایک ایٹمی ریسرچ ری ایکٹر

ہفتے کے روز سرکاری سرپرستی میں چلنے والے ایک ٹی وی چینل کی ویب سائٹ پر جاری کردہ ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اس حوالے سے متعدد افراد کی گرفتاری ابھی حال ہی میں عمل میں آئی۔

’ہمیں ہمیشہ سے ایسے جاسوسوں کی منفی سرگرمیوں کا سامنا ہے۔ ظاہر ہے اس حوالے سے ہم نے دشمن کی تخریبی سرگرمیوں کو روکنے کے لئے متعدد افراد کو گرفتار بھی کیا ہے۔‘

اس رپورٹ میں مزید تفصیلات ظاہر نہیں کی گئیں کہ آیا جاسوسی سے مراد حال ہی میں ایک ایرانی جوہری تنصیب کے کمپیوٹر سسٹمز پر کئے گئے وائرس حملے سے ہے یا نہیں۔

چند روز قبل ایران کی البشہر نامی جوہری تنصیب کے کمپیوٹر نظام پر وائرس حملہ کیا گیا تھا، جس کے نتیجے میں یہاں متعدد کمپیوٹرز متاثر ہوئے تھے۔ تاہم بعد میں وہاں ایک مرتبہ پھر کام کا آغاز کر دیا گیا تھا۔

Achmadinedschad Ahmadinejad Anschlag Bombe Konvoi NO FLASH

ایرانی صدر محمود احمدی نژاد

ایک ایرانی نیم سرکاری خبر رساں ادارے مہر کی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے، ’دشمن نے ایرانی جوہری سرگرمیوں میں رکاوٹ کے لئے انٹرنیٹ کے ذریعے برقی کیڑے بھیجے۔‘

اس خبررساں ادارے میں ایک ایرانی اہلکار کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ ایران ایسے تمام حملوں سے نمٹنے کے لئے لئے پوری طرح مستعد اور تیار ہے۔ بعض مبصرین کا خیال ہے کہ سٹَکس وائرس ایرانی جوہری پروگرام کو سبوتاژ کرنے لئے تیار کیا گیا ہے، جس کا حملہ کچھ روز قبل ایرانی جوہری تنصیب پر ہوا تھا۔

ایران کے جوہری پروگرام کے حوالے سے مغربی ممالک کو خدشات لاحق ہیں کہ ایران خفیہ طور پر ایٹم بم بنانے کی کوششوں میں مصروف ہے تاہم تہران ایسے الزامات کو یکسر مسترد کرتا آیا ہے۔

البشہر نامی ایٹمی ری ایکٹر میں وائرس حملے کی خبر منظر عام پر آنے کے فوری بعد ایران نے اس ری ایکٹر میں دوبارہ کام کے آغاز کا اعلان کیا تھا، جو کئی ماہ سے تعطل کا شکار تھا۔

رپورٹ : عاطف توقیر

ادارت : ندیم گِل

DW.COM

ویب لنکس