1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

ایران میں برطانوی سفارت خانے پر حملہ

ایرانی دارالحکومت تہران میں مظاہرین نے برطانوی سفارت خانے پر دھاوا بول دیا اور سفارت خانے کو نقصان پہنچایا۔ برطانوی حکومت نے اس واقعے پر شدید احتجاج کیا ہے۔

default

ایرانی طالب علموں نے منگل کے روز برطانیہ کے سفارت خانے کے باہر مظاہرے کے دوران پر تشدد کارروائی کرتے ہوئے سفارت خانے کی کھڑکیاں توڑنے کے علاوہ ایک گاڑی کو آگ لگا دی۔ اس کارروائی کے دوران ان عسکریت پسند طالب علموں نے برطانیہ کا پرچم بھی نذر آتش کیا۔ ایرانی پولیس نے ان مظاہرین کو روکنے کی ناکافی کوشش کی اور اس دوران پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپیں بھی ہوئیں۔

مظاہرین کے بقول وہ برطانیہ اور مغربی ممالک کی جانب سے ایران پر تازہ پابندیاں لگانے کے خلاف احتجاج کر رہے تھے۔ یہ پابندیاں ایران کے متنازعہ جوہری پروگرام اور اقوام متحدہ کے ادارہ برائے جوہری توانائی کے ساتھ ایرانی حکومت کے عدم تعاون کے حوالے سے لگائی گئی ہیں۔

Flash-Galerie Iran Britische Botschaft

مظاہرین برطانیہ، امریکہ اور اسرائیل کے پرچم نذر آتش کرتے ہوئے

برطانوی حکومت نے منگل کے واقعے کو ’اشتعال انگیز‘ قرار دیتے ہوئے ایرانی حکومت کو سنگین نتائج بھگتنے کے لیے تیار رہنے کے لیے کہا ہے۔ امریکی صدر باراک اوباما نے ایک بیان میں کہا ہے کہ یہ ایک پریشان کن صورت حال ہے۔ انہوں نے ایرانی حکومت سے برطانوی سفارت خانے پر حملہ کرنے والوں کے خلاف کارروائی کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

ایک ایرانی رپورٹ کے مطابق مظاہرین نے سفارت خانے کے چھ کارکنوں کو کچھ دیر کے لیے یرغمال بنائے رکھا۔ برطانوی وزیر خارجہ ولیم ہیگ نے صورت حال کو انتہائی گھمبیر قرار دیا ہے۔

جرمن حکومت کے مطابق سفارت خانے کے قرب میں موجود ایک جرمن اسکول کو بھی مظاہرین نے نشانہ بنایا۔

برطانوی وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون نے منگل کے روز اس واقعے پر تبادلہ خیال کے لیے ایک غیر معمولی حکومتی اجلاس طلب کیا۔ ان کا کہنا تھا، ’’ایرانی حکومت کی جانب سے برطانوی عملے اور املاک کو نقصان پہنچنے سے نہ بچا پانا ایک شرمناک بات ہے۔‘‘

ڈیوڈ کیمرون کا یہ بھی کہنا تھا کہ ایرانی حکومت کو یہ بات سمجھنا چاہیے کہ اس واقعے کے خطرناک نتائج برآمد ہو سکتے ہیں۔ ’’آئندہ دنوں میں ہم اس بات کا تعین کریں گے کہ اس واقعے کے رد عمل میں کیا اقدامات کیے جائیں۔‘‘

خیال رہے کہ ایران میں انیس سہ اناسی کے ’انقلاب‘ کے بعد ہی سے مذہبی انتہا پسندوں کی جانب سے مغربی سفارت خانوں کے سامنے مظاہرے کیے جاتے رہے ہیں، جن میں سے کئی پر تشدد شکل بھی اختیار کرتے رہے ہیں۔ یورپی یونین نے بھی اس واقعے کی شدید مذمت کی ہے۔

رپورٹ: شامل شمس ⁄  خبر رساں ادارے

ادارت: ندیم گِل

DW.COM