1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

ایران میں الیکشن کا دوسرا مرحلہ، روحانی کے لیے چیلنج

ایران کے پارلیمانی انتخابات کے دوسرے مرحلے کا انعقاد آج بروز جمعہ کیا جا رہا ہے۔ توقع ہے کہ اس انتخابی عمل میں بھی اصلاحات پسند سیاستدان اپنے کٹر نظریات کے حامل حریف گروپوں کے خلاف کامیابی سمیٹنے میں کامیاب ہو سکتے ہیں۔

امریکی خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس نے ایرانی حکام کے حوالے سے بتایا ہے کہ انتیس اپریل بروز جمعہ ہونے والے ان انتخابات کے نتائج واضح کریں گے کہ ملکی پارلیمان میں اکثریت کٹر نظریات کے حامل گروپ کی ہو گی یا اعتدال پسند صدر حسن روحانی کی حمایت کرنے والے سیاستدانوں کی۔ اس تناظر میں دوسرے مرحلے کے انتخابات کو انتہائی اہم قرار دیا جا رہا ہے۔

ان انتخابات میں ایرانی پارلیمان کی کل نشستوں 290 میں سے 68 نشستوں پر پولنگ ہو رہی ہے۔ الیکشن کمیشن کے مطابق ان انتخابات کے نتائج ہفتے تک متوقع ہیں۔ ایران اور مغربی طاقتوں کے مابین جوہری ڈیل کے بعد ایران کے یہ پہلے انتخانات ہیں۔ اس لیے عالمی برداری بھی اس الیکشن کا بغور مشاہدہ کر رہی ہے۔

فروری میں منعقد ہونے والے ان انتخابات کے پہلے مرحلے میں صدر حسن روحانی کی حامی اصلاحات و اعتدال پسند طاقتوں نے معمولی سبقت حاصل کی تھی۔ تب ووٹ ڈالنے کی شرح باسٹھ فیصد تھی۔ حسن روحانی کے گروپ کو پارلیمان میں اکثریت حاصل کرنے کے لیے چالیس مزید نشستوں پر کامیابی درکار ہے۔ ایران کی نئی پارلیمان مئی سے کام کرنا شروع کرے گی۔ عوامی جائزوں کے مطابق اس مرحلے میں قدامت پسند روحانی کو سخت مقابلہ دے سکتے ہیں۔

صبح آٹھ بجے شروع ہونے والی پولنگ میں ایران کے مختلف شہروں اور علاقوں میں سترہ ملین ووٹرز پچپن حلقوں میں ووٹ ڈالنے کے اہل ہوں گے۔ ان انتخابات کے پہلے مرحلے میں اعتدال پسندوں نے تہران کی تمام یعنی تیس نشستوں پر کامیابی حاصل کر لی تھی۔

صدر حسن روحانی کا اعتدال پسند دھڑے نے مجموعی طور پر اٹھاون امیدوار میدان میں اتارے ہیں۔ الیکشن کمیشن کے مطابق پولنگ کا عمل شام چھ بجے تک جاری رہے گا لیکن یہ امر اہم ہے کہ اس شیعہ اکثریتی ملک میں ووٹنگ کا ٹائم اکثر بڑھا دیا جاتا ہے۔

Hassan Rohani iranischer Präsident

ان انتخابات کو صدر حسن روحانی کی پالیسیوں کے لیے ایک ریفرنڈم قرار دیا جا رہا ہے

گزشتہ کئی دنوں سے ایرانی حکومت نے عوام پر زوردینے کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے کہ وہ اپنا حق رائے دہی ضرور استعمال کریں۔ اس تناظر میں سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے ایک بیان میں کہا، ’’دوسرے مرحلے کے انتخابات کی اہمیت پہلے مرحلے کے مقابلے میں ہرگز کم نہیں ہے۔ تمام ووٹرز کو چاہیے کہ وہ اس مرحلے میں بھی اپنا حق رائے دہی استعمال کریں۔ ان انتخابات میں شرکت فیصلہ کن ہو گی۔‘‘

ان انتخابات کو صدر حسن روحانی کی پالیسیوں کے لیے ایک ریفرنڈم قرار دیا جا رہا ہے۔ اگرچہ ایران اور عالمی طاقتوں کے مابین جوہری ڈیل طے پا چکی ہے لیکن ایران کے کئی حلقوں میں یہ تاثر پایا جاتا ہے کہ اس سے ایران کی اقتصادیات پر کوئی مثبت اثر ظاہر نہیں ہوا ہے۔