1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

ایران میں اصلاح پسندوں کی کامیابی

ایران کی وزارت داخلہ کے انتخابی کمیشن نے مقامی کونسلوں کے ابتدائی نتائج کا اعلان کر دیا ہے جن کے مطابق اصلاح پسندوں کو صدر احمدی نژاد کے حامیوں کی نسبت زیادہ کامیابی ملی ہے۔

default

اس سے پہلے اصلاح پسند امیدواروں نے ووٹوں کی گنتی میں سست رفتاری پر تنقید کی تھی جس کو وزیر داخلہ نے مسترد کر دیا تھا۔اصلاح پسندوں کے اتحاد کے ترجمان مرتضی حاجی کا کہنا ہے کہ انہوںنے ہاشمی رفسنجانی سے ملاقات میں اس سلسلے میں اپنی شدید تشویش کا اظہار کیا ہے اور ان سے اس سلسلے میں مدد طلب کی ہے۔دوسری طرف مجلس خبرگان کے انتخابات میں سابق صدر ہاشمی رفسنجانی سب سے زیادہ ووٹ حاصل کرکے پہلے نمبر پر رہے ہیں۔ان تمام چیزوں سے قطع نظر ایرانی حکام ان انتخابات میں لوگوں کی وسیع شرکت کو اسلامی نظام کی حمایت کی علامت قرار دے رہے ہیں۔اس مرتبہ کے انتخابات میں لوگوں کی 63 فیصد شرکت کا اعلان کیا گیا ہے۔ البتہ بعض ماہرین کا خیال ہے کہ لوگوں کی زیادہ شرکت کے باعث اگر صدر احمدی نژاد کے حامیوں کو کامیابی حاصل ہوتی ہے تو اسے ایرانی حکام کے لئے اہم تصور کیا جا سکتا ہے لیکن اگر اصلاح پسندوں کو سن 2004 کے پارلیمانی انتخابات میں سخت ناکامی کے بعد اکثریت حاصل ہوتی ہے تو اسے صدر احمدی نژاد کے لئے ایک خطرناک پیغام بھی قرار دیا جا سکتا ہے۔خاص طور پرمجلس خبرگان میں صدارتی اور پارلیمانی انتخابات میں مسلسل شکست کے بعد ہاشمی رفسنجانی کی کامیابی بجائے خود قدامت پسندوں کے لئے ایک خاموش پیغام رکھتی ہے۔بہرحال دنیا کے سیاسی اور صحافتی حلقے بڑی بے تابی سے ایران کے حتمی انتخابی نتائج کا اعلان کر رہے ہیں کہ جو دراصل ملک میں احمدی نژاد کی محبوبیت اور مقبولیت کو جانچنے اور اصلاح پسندوں کے مستقبل کے تعین کا ایک اہم معیار بن چکے ہیں۔ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ انتخابی نتائج چاہے کچھ بھی ہوں بہرحال اس کا حکومت کی پالیسیوں پر کوئی خاص اثر نہیں پڑنے والا لیکن اس سے ایرانی معاشرے میں پائے جانے والے حقیقی رجحانات کا اندازہ ہو سکے گا۔