1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

ایران میں اسلامی انقلاب کی تیسویں سالگرہ

ایران میں وہ نسل جو اسلامی انقلاب کے بعد پیدا ہوئی وہ اس انقلاب کے خلاف تو نہیں تاہم انہیں ملک کے سیاسی نظام سے اختلاف ضرور ہے۔

default

ایک ایرانی طالب علم مظاہرے کے دوران

ایران کا دارلحکومت تہران جس کی آبادی تقریباً 15 ملین ہے، ایک پہاڑی سلسلہ پر واقع ہے۔ چھٹی کے دن نوجوان یہاں کوہ پیمائی کے لئے اکٹھے ہوتے ہیں اور بعد میں تھکن اتارنے کے لئے ایک کیفے میں جمع ہو کر چائے پیتے ہیں اور آپس میں گپ شپ لگاتے ہیں۔ ان دنوں ان کا گفتگو کا موضوع ایران کا اسلامی انقلاب ہے۔ یہ وہ نوجوان ہیں جو انقلاب کے بعد پیدا ہوئے۔ تاہم ان کا بچپن ایسے ماحول میں گزرا جب ایران اور عراق کے درمیان جنگ جاری تھی۔ محمد بھی انہی میں سے ایک ہیں جن کے بڑے بھائی اس جنگ کی بھینٹ چڑھ گئے تھے۔ ان کا کہنا ہے کہ ایران میں کوئی بھی انقلاب کے خلاف نہیں البتہ اگر کسی کو اعتراض ہے تو شاید سیاسی نظام پر۔

آج بھی اسلامی انقلاب کی تیسویں سالگرہ کے موقع پر تہران کی در و دیواروں پر شہیدوں اور انقلابی جد وجہد کے دوران جان کا نذرانہ پیش کرنے والوں کی تصویریں نظر آتی ہیں اور ایسے بینر دکھائی دیتے ہیں جن پر درج ہے کہ یہ انقلاب شہیدوں کے خون سے وجود میں آیا۔

انقلاب کے بعد ملک بھر میں نائٹ کلب، ناچ گھر اور جوئے خانے بند کر دئیے گئے تھے جبکہ عورتوں کے لئے سر ڈھانپنا لازمی قرار دے دیا گیا تھا۔

ایران کے شہنشاہ رضا شاہ پہلوی نے کبھی خواب میں بھی نہیں سوچا ہو گا کہ ان کی حکومت کو بھی زوال آ سکتا ہے۔ انہوں نے1963 میں آیت اللہ خمینی کو جلا وطن کر دیا تھا۔ وہ پہلے ترکی چلے گئے اور بعد ازاں عراق کے شہر نجف منتقل ہو گے جہاں سے صدام حسین نے انہیں نکال دیا تو وہ پیرس چلے گئے۔ آیت اللہ خمینی نے جلا وطنی کے دور میں بھی اپنی جد و جہد جاری رکھی۔ با لآخر یکم فروری 1979 کو وہ طویل جلا وطنی کے بعد واپس تہران پہنچے۔ ان کی آمد کے ساتھ ہی ایران میں دو ہزار سال سے زائد عرصے پر پھیلی بادشاہت کا سورج غروب ہو گیا۔ اس سے قبل شہنشاہ رضا شاہ پہلوی اپنی اہلیہ اور چند ساتھیوں کے ساتھ ملک چھوڑ کر جا چکے تھے۔ بعد میں انہوں نے انتہائی کسمپرسی کے عالم میں مصر میں وفات پائی۔