1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

ایران مزید طاقتور جوہری ری ایکٹر بنائے گا:صالحی

ایرانی جوہری پروگرام کے سربراہ علی اکبر صالحی نےکہا ہےکہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی طرف سے پابندیوں کے نئے دور کے بعد تہران حکومت بھی اپنی پالیسی تبدیل کرے گی اور اپنے جوہری پروگرام کو مزید مؤثر بنانےگا۔

default

تہران کے جوہری پروگرام کے سربراہ علی اکبر صالحی

ایرانی حکام نے اعلان کیا ہے کہ وہ ریڈیو آئسوٹوپ کے لئے ایک نیا جدید جوہری ری ایکٹر تیار کررہے ہیں، جو پہلے والے ری ایکٹر سے کہیں زیادہ طاقتور ہوگا۔ تہران جوہری پروگرام کے سربراہ علی اکبر صالحی نے بدھ کے دن کہا کہ اب عالمی برادری کے ساتھ جوہری پروگرام پرمذاکرات کے لئے ’دوہری پالیسی‘ اپنائی جائےگی۔ اس کی وضاحت انہوں نے یوں کی: ’’ ہماری اس پالیسی میں ایماندارانہ مذاکرات بھی شامل ہوں گے جبکہ ساتھ ہی ہم اپنے حریفوں پر دباؤ ڈالنے کے لئے اپنا جوہری پروگرام بھی بھر پور طریقے سےجاری رکھیں گے۔‘‘

انہوں نے کہا کہ تہران نے عالمی برادری کو اپنے جوہری پروگرام پرمذاکرات کے لئے کھلی دعوت دی تھی تاہم انہوں نے پھر بھی پابندیاں عائد کردیں۔

ایرانی سرکاری ٹیلی وژن کی ویب سائٹ پرعلی اکبر صالحی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ آئسوٹوپ کے لئے تیار کیا جا رہا اور نیا جوہری ری ایکٹر جلد ہی کام شروع کر دے گا۔ صالحی نے مزید کہا کہ کہ وہ ایسے جدید جوہری ری ایکٹرز ملک کے مختلف مقامات پر قائم کریں گے۔ انہوں نے کہا:’’ ہمارا منصوبہ ہے کہ ہم ملک کے شمال، جنوب، مشرق اور مغرب میں کئی ری ایکٹرز بنائیں گے تاکہ ہم آئسو ٹوپ زیادہ مقدار میں تیارکر سکیں، جو فروخت کئےجا سکیں اور ایسےمسلم ممالک کوبرآمد بھی کئے جا سکیں، جنہیں ان کی ضرورت ہے۔‘‘

Ahadinejad in iranischem Parlament mit Ali Larijani

ایرانی صدر محمود احمدی نژاد پارلیمان سے خطاب کرتے ہوئے، پس منظر میں پارلیمان کے اسپیکر علی لاری جانی

ایرانی جوہری پروگرام کے سربراہ نے مزید کہا کہ عالمی برداری کی طرف سے نئی پابندیاں عائد کئے جانےکے بعد تہران نے اعلیٰ یورینیم کی افزودگی کا عمل شروع کردیا ہے۔ 9 جون کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے ایران کے متنازعہ جوہری پروگرام کی وجہ سے اس پر چوتھے دور کی پابندیاں عائد کی ہیں۔ مغربی طاقتوں کو خدشہ ہے کہ ایران جوہری ہتھیار تیار کرنے کی کوشش میں ہے جبکہ ایران ایسے الزامات کو مسترد کرتا ہے۔

دوسری طرف ایرانی پارلیمان کےاسپیکر علی لاریجانی نے بدھ کے دن حکومت پر زور دیا کہ وہ اعلیٰ یورینیم کی افزدودگی کا عمل جاری رکھے۔ لاریجانی نے سلامتی کونسل کی نئی پابندیوں کو مسترد کرتے ہوئے خبردار کیا کہ اگر امریکہ اور دیگر مغربی ممالک نئی پابندیوں کے تحت ایرانی کارگو سامان کی سخت تلاشی کا عمل شروع کریں گے تو تہران بھی گلف کے پانیوں میں نگرانی، سخت کردے گا۔ خیال رہے کہ تجارت کی غرض سے دنیا کا کوئی چالیس فیصد خام تیل، گلف کے سمندری راستے سے ہوکر مختلف ممالک کو پہنچایا جاتا ہے۔

رپورٹ: عاطف بلوچ

ادارت: عدنان اسحاق

DW.COM