1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

ایران: مخلوط پارٹیوں کی میزبانی، میاں بیوی پر فردِ جرم عائد

ایران میں زیر حراست ایرانی نژاد امریکی شہری اور اس کی بیوی پر پارٹیاں منعقد کرانے کی فرد جرم عائد کر دی گئی ہے۔ تہران میں دفتر استغاثہ کے مطابق ایک اور جوڑے کو ایک مذہبی فرقہ چلانے پر سزائے موت سنائی گئی ہے۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق تہران میں دفتر استغاثہ کی طرف سے کوئی نام نہیں بتایا گیا تاہم خیال یہی ہے کہ جس دوہری شہریت رکھنے والے شخص اور اس کی اہلیہ پر فرد جرم عائد کی گئی ہے وہ جوڑا وہی  ہے جسے گزشتہ موسم سرما میں گرفتار کیا گیا تھا۔ اشرافیہ طبقے سے تعلق رکھنے والے یہ میاں بیوی ایرانی دارالحکومت تہران میں ایک آرٹ گیلری کے مالک تھے اور تواتر سے ایسے ایونٹ منعقد کراتے رہتے تھے جن میں معروف افراد اور غیر ملکی سفارت کار شرکت کرتے  تھے۔

مستغیث،  عباس جعفری دولت آبادی کی طرف سے بتایا گیا کہ یہ مقدمہ ’’ایک خاتون اور ایک مرد سے متعلق ہے جنہوں نے شراب فراہم کی اور مخلوط پارٹیاں منعقد کرا کے بدعنوانی اور عیاشی کی حوصلہ افزائی کی۔‘‘ دولت آبادی نے مزید بتایا کہ تہران کے شمالی حصے میں واقع ان کے گھر کے تہہ خانے سے چار ہزار لٹر شراب برآمد ہوئی۔

اے ایف پی کے مطابق یہ جوڑا زرتشی مذہب کا پیروکار ہے اور اس مذہب سے تعلق رکھنے والوں کو شراب کے استعمال اور رکھنے کی اجازت ہوتی ہے تاہم یہ اجازت نہیں ہوتی کہ وہ مسلمانوں کو شراب فراہم کریں۔

Irans Präsident Hassan Rohani (picture alliance/dpa/Office of the Iranian Presidency)

ایران کے اعتدال پسند صدر حسن روحانی مغرب کے ساتھ تعلقات میں بہتری لانے کی کوششوں میں ہیں تاہم  روحانی کی ان کاوشوں کا ایران کے اندر لگی پابندیوں پر کوئی اثر دیکھنے میں نہیں آتا

دولت آبادی نے ایک اور مقدمے کے بارے میں بھی بتایا جس میں’’ ایک جوڑ ایک نیا فرقہ تشکیل دینے،  لوگوں کو اس طرف راغب کرنے اور جنسی انحراف کا مرتکب ہوا‘‘۔ اس جوڑے پر ’’زمین پر فساد برپا کرنے‘‘ کا الزام عائد کیا گیا تھا۔  1979ء کے انقلاب کے بعد اس  جرم  کے ارتکاب پر موت کی سزا مقرر کر دی گئی تھی۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق ایران کے اعتدال پسند صدر حسن روحانی مغرب کے ساتھ تعلقات میں بہتری لانے کی کوششوں میں ہیں تاہم  روحانی کی ان کاوشوں کا ایران کے اندر لگی پابندیوں پر کوئی اثر دیکھنے میں نہیں آتا۔

 تہران کے مستغیث اعلیٰ کی طرف سے رواں برس جنوری میں بتایا گیا تھا کہ قریب 70 جاسوس شہر کی مختلف جیلوں میں قید کاٹ رہے ہیں تاہم ان میں سے بہت ہی کم لوگ ایسے ہیں جن کا نام عوام کے سامنے لایا گیا۔