1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

ایران لاپتہ ایف بی آئی اہلکار کی تلاش میں مدد کرے، کلنٹن

امریکی وزیرخارجہ ہلیری کلنٹن نے تہران سے کہا ہے کہ وہ چار برس قبل ایران میں لاپتہ ہو جانے والے ایف بی آئی کے سابق اہلکار کی تلاش میں واشنگٹن کی مدد کرے۔ انہوں نے یہ بات اس اہلکار کے زندہ ہونے کی اطلاعات کے بعد کہی۔

default

امریکی وزیر خارجہ ہلیری کلنٹن

اس سے قبل کلنٹن نے اپنے ایک بیان میں کہا تھا کہ سابق ایف بی آئی ایجنٹ رابرٹ بوب لیونسن ممکنہ طور پر ’جنوب مشرقی ایشیا‘ میں ہیں اور زندہ سلامت ہے۔ کلنٹن نے ایران سے اپیل کی کہ لیونسن کی تلاش کے لیے تہران حکومت انسانی بنیادوں پر واشنگٹن کی مدد کرے۔

کلنٹن نے جمعہ کو اپنے ایک بیان میں کہا، ’مجھے کہنے دیجیے کہ تفتیش جاری ہے۔ میں اس سے زیادہ اس بارے میں کوئی معلومات نہیں دے سکتی۔ اہم بات یہ ہے کہ ہمیں لیونسن کو بحفاظت فلوریڈا میں ان کی فیملی تک پہنچانا ہے۔ لیونسن کو ممکنہ طور پر کچھ طبی مسائل درپیش ہو سکتے ہیں اور ان کا خاندان بے صبری سے ان کا منتظر ہے۔‘

انہوں نے لیونسن کے اہل خانہ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ لیونسن ذیابیطس کے مریض ہیں۔ انہوں نے کہا کہ لیونسن کی واپسی کے لیے وہ ایرانی حکومت کی طرف سے کسی بھی مدد کو خوش آئند کہیں گی، تاکہ لیونسن کو ان کے اہل خانہ تک پہنچایا جا سکے۔

گزشتہ ماہ ایرانی انقلابی گارڈز نے ایسی خبروں کی تردید کی تھی، جن میں کہا جا رہا تھا کہ ممکنہ طور پر لیونسن انقلابی گارڈز کی حراست میں ہیں۔ اس سے قبل ایرانی حکام کی طرف سے لیونسن کے حوالے سے کسی بھی طرح کی معلومات سے بھی لاعلمی کا اظہار کیا گیا تھا۔

Karte Iran

’ایف بی آئی کے سابق اہلکار رابرٹ بوب لیونسن ایک ایرانی علاقے میں لاپتہ ہوئے‘

لیونسن ایرانی جزیرے کِش سے مارچ سن 2007ء میں لاپتہ ہو گئے تھے۔ لیونسن کی اہلیہ کے مطابق وہ خطے میں تمباکو نوشی کے حوالے سے ایک تحقیق کے سلسلے میں اس جزیرے تک گئے تھے۔ ’لیونسن کی طرف سے کِش سے آخری مرتبہ فون کال آٹھ مارچ 2007ء کو موصول ہوئی تھی، جس کے بعد ان سے کسی طرح کا کوئی بھی رابطہ نہ ہو پایا۔‘

انہوں نے کہا کہ اپنے شوہر کے زندہ سلامت ہونے کی خبروں سے انہیں اور ان کے تمام اہل خانہ کو بہت تسلی ہوئی ہے، تاہم اپنے شوہر کی سلامتی اورصحت کے حوالے سے وہ بہت پریشان ہیں۔

رپورٹ : عاطف توقیر

ادارت : ندیم گِل

DW.COM