1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

ایران، عراق جنگ کے بیس سال بعد

بیس اگست 1988 کے روز انقلاب ایرا ن کے رہنما آیت اللہ خمینی اور عراقی صدر صدام حسین نے ایک جنگ بندی معاہدے پر اتفاق کرلیا تھا۔یکن صیح معنوں میں ان دونوں ملکوں کے مابین حقیقی امن آج تک قائم نہیں ہو سکا ہے۔

default

تباہ شدہ عراقی ٹینک


آج سے دو عشرے قبل ایران اور عراق کے مابین اس جنگ بندی معاہدے کے طے پانے کے وقت ایرانی رہنما آیت اللہ خمینی نے کہا تھا کہ ان کے لئے اس معاہدے پر دستخط کرنا ایسا ہی ہے جیسے کوئی خود اپنے ہاتھوں زہر کا پیالہ پینے کا فیصلہ کرلے۔ آج اس جنگ بندی کے بیس برس بعد بھی،تہران اور بغداد کے باہمی رابطوں کو حقیقی امن کا مظہر قرار نہیں دیا جا سکتا ۔

1980 میں پہلی خلیجی جنگ کہلانے والے اس طویل تنازعے کے آغاز کے وقت کسی کو بھی علم نہیں تھا کہ آنے والے مہینوں اور برسوں میں اس جنگ کے نتائج کیا ہوں گے۔ 22 ستمبر 1980 کے دن صدام حسین نے ایران پر حملے کا حکم جاری کیا، عراقی فوج نے کئی ایرانی شہروں پر بمباری کی ، اور کچھ شہروں پر تو وہ قابض بھی ہو گئی۔ بغداد حکومت کا خیال تھا کہ انقلاب ایران کے بعد ایران کمزور ہو چکا ہے اور عراق با آسانی ایران پر قابض ہو جائے گا۔ اس کے علاوہ تب اس جنگ میں عراق کو امریکہ اور کئی دوسرے ملکوں کی حمایت بھی حاصل تھی۔

Saddam Hussein

سابق عراقی صدر صدام حسین

دوسری جانب ایرانی رہنما بھی جانتے تھے کہ اس جنگ سے ایرانی قوم کی توجہ داخلی اور سیاسی معاملات سے ہٹائی جا سکتی تھی اور یوں پوری قوم کو بیرونی خطرات اور دشمنوں کے خلاف متحد کیا جا سکتا تھا۔

لیکن ایران کا سب سے اہم ہتھیار زیادہ تر نوجوانوں پر مشتمل اس کی وہ فوج تھی جس کے ارکان نہ صرف آیت اللہ خمینی کی قیادت پر اندھا دھند یقین رکھتے تھے بلکہ اپنے ملک اور اپنے عقیدے کے لئے جان بھی قربان کردینے پرتیار تھے۔ اس جنگ میں پانچ لاکھ سے زائد ایرانی نوجوان ہلاک ہوئے جبکہ ہلاک ہونے والے عراقی فوجیوں کی تعداد چار لاکھ تک بتائی جاتی ہے۔

ایران میں شاید ہی کوئی ایسا گھر ہو جس کا کوئی نہ کوئی فرد اس جنگ میں ہلاک نہ ہوا ہو۔ اس کا سب سے بڑا ثبوت تہران میں واقع، 400 ہیکٹررقبے پر پھیلا ہوا "بہشت زہرا" نامی وہ قبرستان ہے جہا ں اس جنگ میں ہلاک ہونے والے بے شمار ایرانیوں کی قبریں موجود ہیں۔

Ayatollah Khomeini

انقلابَ ایران کے رہنما آیت اللہ خمینی

1988 کی جنگ بندی کے دو عشرے بعد دونوں ملکوں کے عوام کے دلوں میں بد اعتمادی اور رنجشیں آج بھی پائی جاتی ہیں۔ جس طرح ایران میں اسلامی انقلاب کے بعد عراق نے معزول ایرانی بادشاہ رضاپہلوی کو کچھ عرصے کے لئے اپنے ہاں پناہ دی تھی، اسی طرح آج کا ایران بھی بغداد حکومت کے مخالفین، اور خاص کر شیعہ اور کرد شخصیات کو اپنے ہاں پناہ دے رہا ہے۔

کہا جاتا ہے کہ گذشتہ عراقی جنگ میں جب امریکہ نے صدام حکومت کے خلاف فوجی اقدامات شروع کئے تو تب بھی ایرانی قیادت نے اس وجہ سے غیر اعلان شدہ اطمینان کا اظہار کیا تھا کہ صدام حکومت کے خاتمے کے بعد عراق میں شیعہ برادری کو یقینی طور پر اقتدار تک رسائی کا راستہ میسر آجائے گا۔