1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

ایران عالمی تجویز کا مثبت جواب دے گا، رپورٹ

ایران کے ایک سرکاری ٹیلی ویژن نے کہا ہے کہ تہران حکومت اپنے جوہری منصوبے کے حوالے سے IAEA کی تجویز کو تسلیم کر لے گی۔ تاہم ٹیلی ویژن کا یہ بھی کہنا ہے کہ تہران حکام اس حوالے سے فریم ورک میں تبدیلی چاہتے ہیں۔

default

دارالحکومت تہران میں قائم عربی زبان کے سرکاری ٹیلی ویژن العَلَم نے یہ رپورٹ باخبر ذرائع کے حوالے سے دی ہے۔ تاہم اس ٹیلی ویژن چینل نے اس ردو بدل کے حوالے سے تفصیلات فراہم نہیں کی ہیں۔ العَلَم نے اس حوالے سے آئندہ دو روز کے دوران مفاہمت کا امکان ظاہر کیا ہے۔ مجوزہ منصوبے کے تحت

Manouchehr Mottaki

ایرانی وزیر خارجہ منو چہر متقی

ایران اپنے جوہری پلانٹس کے لئے یورینئیم کی افزودگی کے لئے خام یورینئیم فرانس اور روس کو برآمد کرے گا۔ اِس مناسبت سے ایران کی جانب سے مجوزہ پلان میں چند اہم تبدیلیوں کا ذکر کیا جا رہا ہے۔

ابھی یہ واضح نہیں ہے کہ یہ تبدیلیاں کیا ہیں اور کیا عالمی طاقتیں یا اٹامک ایجنسی بھی اُن تبدیلیوں کو قبول کرنے کے لئے تیار ہو گی ہیں یا نہیں۔ یورپی یونین کے خارجہ پالیسی کے چیف خاویئر سولانہ کا کہنا ہے کہ ایران کو پیش کیا گیا منصوبہ انتہائی مناسب پیشکش ہے اور اُس میں بنیادی تبدیلیوں کی گنجائش نہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران کے جوہری تنازعے پر ہونے والی پیش کش مثبت ہونے کے ساتھ ساتھ غیرواضح بھی ہے۔ یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ یہ ایران کی جانب سے اثبات کا عندیہ ایک تاخیری حربہ ہے۔ اِیران کی جانب سے پیش کش کو قبول کرنے کے حوالے سے مہلت ختم ہونے کے حوالے سے فرانسیسی وزیر خارجہ برنارڈ کوشنر کا کہنا ہے کہ عالمی طاقتیں مخصوص وقت تک انتظار کریں گی اور اُس کے بعد اپنا ردعمل ظاہر کریں گی۔ برنارڈ کوشنر کہتے ہیں کہ ایران حکومت وقت ضائع کر رہی ہے اور بات چیت کے عمل میں عالمی طاقتیں انتہائی صبرو تحمل کا مظاہرہ کر رہی ہیں۔

قبل ازیں پیر کو برنارڈ کوشنر نے کہا کہ متنازعہ ایرانی جوہری پروگرام پر پیش رفت عالمی طاقتوں کے لئے از حد ضروری ہے، کیونکہ تہران کی جانب سے مثبت ردعمل ہی دیر پا سمجھوتے کا ضامن ہوگا۔

Frankreich Neues Kabinett Bernard Kouchner

فرانسیسی وزیر خارجہ برنارڈ کوشنر

اُدھر ایران کے اندر اس سمجھوتے کی مخالفت میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے جبکہ ایرانی وزیر خارجہ منو چہر متقی کی جانب سے اس منصوبے کو تسلیم کرنے کا اشارہ بھی سامنے آیا ہے۔ ایرانی وزیر خارجہ کے بیان پر تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ ایران کی جوہری پالیسی میں تبدیلی کا عکاس ہو سکتا ہے۔ ایران کے سرکاری خبر رساں ادارے IRNA نے وزیر خارجہ کے بیان کے حوالے سے بتایا کہ آئندہ چند دنوں میں ایران کی جانب سے جواب سامنے آ سکتا ہے۔

ایران کو اِس مناسبت سے دی گئی مہلت پہلے ہی گزشتہ جمعہ کو ختم ہو چکی ہے۔ دریں اثنا ایرانی پارلیمان کی قومی سلامتی و خارجہ امور کی کمیٹی کے سربراہ علی الدین بروجری کا کہنا ہے کہ اقوام متحدہ کے معائنہ کار قُم کے جوہری مرکز کی جانچ پڑتال کر رہے ہیں، جس کے مکمل ہونے پر وہ اپنی رپورٹ مرتب کریں گے۔

رپورٹ: ندیم گِل

ادارت: عابد حسین

DW.COM