1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

ایران طاقت کے استعمال سے باز رہے، سعودی شہزادہ

ایک سینیئر سعودی اہلکار نے حج انتظامات کے حوالے سے ریاض حکومت پر ایرانی تنقید کے جواب میں کہا ہے کہ وہ عربوں کے خلاف غلط رویہ ترک کر دے اور متنبہ کیا ہے کہ ایران سعودی عرب کے خلاف طاقت کے کسی بھی استعمال سے باز رہے۔

شہزادہ خالد الفیصل

شہزادہ خالد الفیصل

سعودی عرب کے صوبے مکہ کے گورنر شہزادہ خالد الفیصل نے ممکنہ طور پر ایرانی تنقید کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ رواں برس حج کے منظم انتظامات ’’سعودی حکومت کے خلاف پھیلائے جانے والے تمام جھوٹوں اور تہمتوں کا جواب ہیں‘‘۔

سعودی پریس ایجنسی (SPA) کی طرف سے بدھ 14 ستمبر کی شام شائع کیے جانے والے یہ الفاظ دراصل ایران اور سعودی عرب کے درمیان تلخ بیانات کے تبادلے کے بعد سامنے آئے ہیں۔ گزشتہ برس حج کے موقعے پر بھگڈر کے باعث سینکڑوں حاجی ہلاک ہو گئے تھے، جن میں ایرانی حاجیوں کی بھی بڑی تعداد شامل تھی۔ اس پر ایران کی طرف سے سعودی انتظامات کو تنقید کا نشانہ بنایا گیا تھا۔

ایس پی اے کے مطابق پرنس خالد نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ایرانی رہنماؤں کے حوالے سے کہا، ’’میں خدا سے دعا کرتا ہوں کہ وہ ان کی رہنمائی کرے اور عرب اور عراق میں، شام، یمن اور دنیا بھر میں اپنے ساتھی مسلمانوں کے خلاف انہیں غلط رویے اور حد سے گزرنے سے باز رکھے‘‘۔

پرنس خالد کا مزید کہنا تھا، ’’لیکن اگر وہ ہم پر حملہ کرنے کے لیے کوئی فوج تیار کر رہے ہیں، تو ہم آسانی سے کسی ایسے کا شکار نہیں بنیں گے، جو ہم پر جنگ مسلط کرتا ہے۔۔۔ ہم جب چاہیں، اللہ کی مدد سے، کسی بھی جارح کا جواب دیں گے اور اس مقدس زمین اور اپنے وطن کے تحفظ میں کوئی کسر نہیں چھوڑیں گے۔ جب تک ہم میں سے کوئی ایک بھی زمین پر موجود ہے، کوئی بھی ہمارے ملک کے کسی حصے کی بے حرمتی نہیں کر سکتا۔‘‘

گزشتہ برس حج کے موقعے پر بھگڈر کے باعث سینکڑوں حاجی ہلاک ہو گئے تھے

گزشتہ برس حج کے موقعے پر بھگڈر کے باعث سینکڑوں حاجی ہلاک ہو گئے تھے

روئٹرز کے مطابق تاہم ابھی تک کسی ایرانی رہنما کی طرف سے سعودی عرب کے ساتھ جنگ کی کوئی بات نہیں کی گئی اور نہ ہی ایران شاید ایسا چاہتا ہے۔ تاہم گزشتہ برس حج کے دوران پیش آنے والے سانحے اور پھر رواں برس کے آغاز میں سعودی عرب کی طرف سے شیعہ مذہبی رہنما نِمر النمر کو سزائے موت دیے جانے کے بعد سے دونوں ممالک کے درمیان تناؤ موجود ہے اور سفارتی تعلقات بھی معطل ہیں۔

تلخ بیانات کا حالیہ سلسلہ رواں برس ایرانی زائرین کو حج کی اجازت نہ ملنے پر ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی جانب سے سعودی حکمرانوں کو تنقید کا نشانہ بنائے جانے کے بعد شروع ہوا تھا۔ تین دہائیوں کے دوران یہ پہلا موقع ہے کہ ایران سے زائرین حج کی ادائیگی کے لیے سعودی عرب نہیں جا سکے۔