1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

ایران: صدارتی انتخابات آج ہو رہے ہیں

ایران میں آج صدارتی انتخابات کے لیے رائے شماری ہو رہی ہے۔ ان انتخابات میں ایران کے موجودہ صدر محمود احمدی نژاد کا مقابلہ اصلاح پسند رہنماؤں میر حسین موسوی اور مہدی کیروبی سے ہے۔

default

کیا احمدی نژاد دوبارہ صدر منتخب ہو پائیں گے؟

آج ایران میں صدارتی انتخابات کا انعقاد ہو رہا ہے۔ جائزوں کے مطابق ان انتخابات میں اصل مقابلہ سخت گیر احمدی نژاد اور اصلاح پسند حسین موسوی کے درمیان ہے۔

بہت سے سیاسی مبصرین کا خیال ہے کہ اس الیکشن پر اسلامی جمہوریہ ایران کی مستقبل کی داخلہ اور خارجہ پالیسی کا انحصار ہوگا۔ دلچسپ امر ایرانی صدر کی طاقت کا اندازہ لگانا ہے۔

ایران میں قانون کے پاسدار مدبر گرچہ جمہوریت پسند ہونے کا تاثر دینے کی کوششیں کر رہے ہیں۔ تاہم حقیقت یہ ہے کہ ملکی صدرکی طاقت، پارلیمان اور وزراء کی مشاورتی کمیٹی کے اختیارات بہت محدود ہیں۔ ایران میں انقلابی لیڈروں کے غلبے والی ایک مذہبی حکومت بر سر اقتدار ہے ۔

Teaser Wahlen Iran Wirtschaft

حقیقت یہ ہے کہ ملکی صدرکی طاقت، پارلیمان اور وزراء کی مشاورتی کمیٹی کے اختیارات بہت محدود ہیں


اگر ایران کے صدارتی انتخابات ملکی نظام میں کسی تبدیلی کا باعث بنے تواسلامی جمہوریہ میں اسے غیر قانونی قرار دے دیا جائے گا۔ سابق صدر محمد خاتمی ملک میں اصلاحات کی کوششوں کے ضمن میں اس تجربے سے گزر چکے ہیں۔ خاتمی آٹھ سال تک ایران کے صدر رہے لیکن وہ بھی طاقت پسندانہ مذہبی نظام حکومت میں بنیادی تبدیلیاں بھی نہ لا سکے۔

اصلاحات کے حامیوں کے لئے امید کی کرن کی حیثیت رکھنے والے خاتمی نہ تو پارٹی پلورلزم یا کثیرالجماعتی نظام، نہ ہی پریس کی آزادی اور انسانی حقوق کو تحفظ دے سکے۔ اس کے برعکس، ٹھیک خاتمی کے دور میں 1999 میں ایرانی طلبہ کے احتجاجی مظاہروں کو بہیمانہ طریقے سے کچلا گیا اور انہیں دنوں میں کئی ایرانی دانشوروں اور مصنفین کا قتل بھی ہوا۔ اسلامی انقلابی خمینی نظریات کا کبھی تنقیدی جائزہ نہیں لیا گیا۔ نہ ہی یہ جاننے کی کوشش کی گئی کہ حکومتی آلہ کاروں کے اندر سیاسی قوت کے حصول کی خواہش کس قدر شدید ہے۔

Iran Wahlen 2009

ایرانی نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد اصلاح پسند امیدوار حسین موسوی کی حمایت کر رہی ہے

خاتمی کے عہد صدارت کے شروع میں بہت سے لوگ ان میں ایرانی گورباچوف کی جھلک دیکھتے تھے۔ معروف ایرانی صحافی اور ملکی سیاست کے ماہر علی صدرزادہ کا کہنا ہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران کے آئین کے تحت ملکی صدر کے پاس بمشکل حقیقی سیاسی قوت ہوتی ہے اور اصل طاقت جیسے کہ فوج کی قیادت، پارلیمان کی تحلیل یہاں تک کہ خارجہ پالیسی امورایسے شعبوں میں تمام تر اختیارات انقلابی لیڈروں کو حاصل ہیں۔

صدر زادہ کے خیال میں ایرانی صدر کے پاس وہاں کے نظام اور اسلامی جمہوریہ کے مذہبی رہنما کی حمایت اور تقلید کے سوا کوئی پاور نہیں ہوتی۔

Mehdi Karubi

ایک اور صدارتی امیدوار مہدی کیروبی

اس بار کے صدارتی انتخابات میں آزاد امیدواروں کے لئے شروع ہی سے کوئی چانس نظر نہیں آ رہا۔ ایرانی نژاد مستشرق نوید کرمانی جو ایک عرصے سے جرمنی میں آباد ہیں، انہوں نے "ایران۔ بچوں کا انقلاب" کے عنوان سے ایک کتاب شائع کی ہے۔ اس میں وہ ایران کے انتخابی نظام کو لغو قراردیتے ہیں۔

’ایرانی آئین کی بازی گری کا شکریہ جو ایک ایسا گھن چکر ہے جس میں پھنسنے والے عوام گرچہ الیکشن میں ووٹ تو ڈال سکتے ہیں تاہم انتخابات میں ان کی شمولیت اس ناقص اور پیچیدہ نظام میں کوئی تبدیلی لانے کا باعث نہیں بن سکتی کیونکہ آخر کار فیصلہ انقلابی قیادت کے ہاتھوں ہی ہوتا ہے‘

آیت اللہ خمینی کے انتقال کے بعد بیس سالوں سے انقلابی قائد علی خامنہ ای ہیں جو کہ کسی صورت بھی عوام کے آگے جواب دہ نہیں ہیں۔ دراصل ایران کی داخلہ اور خارجہ پالیسیوں کا تمام تر اختیار انہی کے ہاتھوں میں ہے۔

اکثر ایرانی مبصرین اور ماہرین کا خیال ہے کہ موجودہ ایرانی صدر محمود احمدی نژاد چاہے کتنے ہی اشتعال انگیز بیانات کے ذریعے عوامی توجہ اپنی طرف مبذول کروانے کی کوشش کریں، ان کی اہمیت محدود ہے۔ تاہم احمدی نژاد کی مقبولیت کے پیش نظر ان کے دوبارہ صدر منتخب ہونے کے امکانات روشن نظر آ رہے ہیں۔

DW.COM