1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

ایران: صدارتی الیکشن کے نتائج اور ہنگامے

ایرانی صدارتی الیکشن میں شکست کے بعد صدارتی امیدوار میر حسین موسوی کے حامیوں کی جانب سے ایرانی دارالحکومت میں پرتشدد ہنگاموں کا سلسلہ شروع ہوا جو امکاناً طول پکڑتا دکھائی نہیں دے رہا کیونکہ انتظامی معاملات خاصے سخت ہیں۔

default

میر حسین موسوی کی حمایتی خاتون

ایران میں صدارتی الیکشن کے نتائج کے بعد میر حسین موسوی کے ہزاروں ناراض اور غصیلےحامیوں نے اپنے رنج کا اظہار کرتے ہوئے حکومتی انتظامی پولیس کےساتھ جھڑپوں میں حصہ لیا۔ اِن افراد کو منتشر کرنے کے لئے پولیس نے آنسو گیس اور لاٹھی چارج کا استعمال کیا۔ تین ہزار کے قریب افراد نے خفیہ پولیس کے دفتر کوبھی نشانہ بنایا۔ چار پولیس کی موٹر سائیکلوں کو مظاہرین نے نذرِآتش کیا۔ پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپوں کا مرکز تہران کا مرکزی چوک، ولی عصر سکوائر تھا۔ مظاہرین کے خیال میں اُن کےلیڈر کی کامیابی کو چوری کر لیا گیا ہے۔ تہران کے مرکزی علاقے میں واقع میر حسین موسوی کے دفتر میں سب سے پہلے اُن کے حامی جمع ہوئے جن میں خواتین بھی شامل تھیں۔ مظاہروں کے بڑھنے کے ساتھ ساتھ پولیس کی تعداد میں اضافہ دیکھا گیا اور کئی افراد کو ہتھکڑیاں بھی لگائی گئیں۔ میر حسین موسوی نے اپنے حامیوں کو مشورہ دیا ہے کہ وہ تشدد کے راستے کو مت اپنائیں۔

Iran Wahlen 2009 Gewaltsame Ausschreitungen

تہران میں انتخابی نتائج کے بعد مظاہرین کی جانب سے سڑک پر لگائی ہوئی آگ

ایران کے وزیر داخلہ صادق محصولی کا مظاہروں کے بعد بیان سامنے آیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ ایران میں کسی احتجاج یا مظاہرے کے لئے سرکاری اجازت لینا لازمی ہوتا ہے لیکن ابھی تک کسی نے بھی اجازت حاصل کرنے کی درخواست جمع نہیں کروائی ہے اِس لیئے یہ تمام مظاہرے غیر قانونی ہیں۔

پرتشدد مظاہروں کے بعد حکومت نے آپوزیشن کے ایک اخبار کے دفتر کو بند کردیا ہے۔ کئی بین الاقوامی خبر رساں ایجنسیوں کی ویب سائٹ تک رسائی ناممکن بنادی گئی ہے۔ اِس کے علاوہ اندرونِ تہران موبائل فون سروس بھی معطل کردی گئی ہے۔ مقامی لوگوں کو یقین ہے کہ صدارتی الیکشن کے بعد شروع ہونے والے ہنگاموں کے کسی کامیابی سے ہمکنار ہونے کے امکانات انتہائی کم ہیں۔ کئی مظاہرین میر حسین موسوی کا انتخابی رنگ سبز کو پہناوے کے طور پر استعمال کر رہے تھے۔ مظاہرین آمریت ختم کرو کے نعرے بھی لگا رہے تھے۔

Iran Wahlen 2009 Gewaltsame Ausschreitungen

تہران کی سڑکوں پر میر حسین موسوی کے حامی حکومتِ وقت کے خلاف نعرہ زنی کرتے ہوئے۔

میر حسین موسوی نے انتخابی نتیجے کو معمہ قرار دیا ہے۔ موسوی کا مزید کہنا ہے کہ اُن کی حامیوں کے اکثریتی مقامات پر بیلٹ پیپر کی کمی دیکھنے میں آئی ہے اور اِس وجہ سے لاکھوں افراد اپنا حقِ رائے دہی استعمال کرنے سے قاصر رہے ہیں۔ موسوی نے خبر رساں ادارے رائٹرز سے بات کرتے ہوئے انتخابی نتیجے پر حیرانگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایسے انتخاب سے اُن کے ملک کے اندر جمہوریت کی جگہ جبریت اور ظلمت کا دار دورہ ہو سکتا ہے۔ صدارتی الیکشن میں عام ووٹرز کو حیرانی اِس لئے بھی ہو رہی ہے کہ احمد نژاد کو اُن مقامات پر بھی زوردار کامیابی حاصل ہوئی ہے جو میر حسین موسوی کا گڑھ تصور کئے جاتے تھے۔

Iran Wahlen 2009 Gewaltsame Ausschreitungen

میر حسین موسری کے حامیوں کا ایک اور گروپ

دوسری جانب احمدی نژاد نے شاندار کامیابی پر اپنے ووٹرز کا شکریہ ادا کیا۔ ایرانی صدر نے آج اپنے حامیوں کو ولئ عصر سکوائر میں جمع ہونے کی تلقین کی ہے جس سے وہ خطاب کریں گے۔

سرکاری نتیجے کے مطابق احمدی نژاد کو ڈالے گئے ووٹوں میں سے ترسٹھ فی صد حاصل ہوئے ہیں جب کہ میر حسین موسوی کو صرف چونتیس فی صد ووٹ ملے ہیں۔

ایران کے اہم ترین مذہبی لیڈر آیت اُللہ اُلعُظمیٰ خامنائی نے احمدی نژاد کی کامیابی کا خیر مقدم کیا ہے اور عوام کو اُن کا مکمل ساتھ دینے کی تلقین کی ہے۔ اپنے بیان میں عوام پرسکون رہنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران کے دشمن کامیابی کی خوشیوں کو برباد کرنے کے درپے ہیں۔