1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

ایران سے کسی ملک کو کوئی خطرہ نہیں، حسن روحانی

ایرانی صدر حسن روحانی نے کہا ہے کہ ایران کسی ملک کے لیے خطرہ نہیں ہے اور اپنے ہمسایہ ممالک اور پوری دنیا کے ساتھ مکالمت اور اعتدال پسندانہ رابطے چاہتا ہے۔

ایران کے سرکاری ٹی وی کے مطابق حسن روحانی نے کہا کہ ایران کسی بھی قوم کے لیے کسی خطرے کا باعث نہیں ہے۔ ایرانی صدر نے یہ بات دارالحکومت تہران میں ملکی اداروں کی جانب سے پیش کی گئیں جوہری مصنوعات کی ایک تقریب میں کہی۔ اس تقریب میں حاضرین سے خطاب میں روحانی نے کہا کہ ان کا ملک میانہ روی کی پالیسی اپنائے رکھے گا اور تمام ممالک کے ساتھ مکالمت اور رابطوں میں اضافے کا خواہاں رہے گا۔

ایران میں کل جمعے کے روز قومی یوم جوہری ٹیکنالوجی منایا جا رہا ہے اور یہ تقریب اسی دن کے سلسلے کی ایک کڑی تھی۔

اس تقریب میں تاہم حسن روحانی کا کہنا تھا کہ جوہری معاہدے کی وجہ سے پیدا ہونے والے مواقع ہمیشہ رہنے والے نہیں، اس لیے ان سے جلد سے جلد اور زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھایا جائے۔

Österreich Wien Atomverhandlungen USA Iran

ایران اور عالمی طاقتوں کے درمیان گزشتہ برس جولائی میں معاہدہ طے پایا تھا

جمعرات سات اپریل کو اس تقریب میں روحانی کا یہ خطاب سرکاری ٹی وی پر براہ راست نشر کیا گیا۔ اس خطاب میں ان کا کہنا تھا، ’’جوہری معاہدے نے جو مثبت امکانات پیدا کیے ہیں، نہ تو وہ مستقل ہیں اور نہ ہی ہمیشہ رہنے والے۔‘‘

انہوں نے کہا کہ اس معاہدے کی وجہ سے ملک کے تمام صنعتی شعبوں میں ترقی کے مواقع پیدا ہوئے ہیں، جن میں جوہری صنعت بھی شامل ہے۔

ایران گزشتہ ایک دہائی سے زائد عرصے تک سخت ترین بین الاقوامی پابندیوں کا شکار رہا ہے، تاہم گزشتہ برس جولائی میں تہران حکومت اور عالمی طاقتوں کے درمیان طے پانے والے جوہری معاہدے کے بعد ایران اور عالمی برادری کے درمیان رابطوں میں اضافہ ہوا ہے۔ رواں برس کے آغاز پر اقوام متحدہ کے جوہری توانائی کے ادارے آئی اے ای اے کی جانب سے اس تصدیق کے بعد کہ ایران نے جوہری معاہدے کے تحت اپنی ایٹمی سرگرمیوں کو محدود کر دیا ہے، تہران حکومت پر عائد بین الاقوامی پابندیوں کے خاتمے کا سلسلہ جاری ہے، جب کہ مغربی ممالک بھی ایران میں مختلف شعبوں میں سرمایہ کاری میں دلچسپی لیتے دکھائی دے رہے ہیں۔

ایرانی صدر اور اس ڈیل کو ملکی سطح پر سخت موقف کے حامل رہنماؤں کی جانب سے تنقید کا سامنا رہا ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ اس ڈیل کی وجہ سے ایران میں اقتصادی سطح پر اب تک کوئی تبدیلی دیکھنے میں آئی ہے اور نہ ہی ترقی۔