1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

ایران سے متعلق بیانات: سعودی سفیر بدلا جائے، عراقی مطالبہ

عراق نے سعودی عرب سے مطالبہ کیا ہے کہ بغداد میں موجودہ سعودی سفیر کو واپس بلا کر نیا سفیر بھیجا جائے۔ بغداد میں سعودی سفارت خانہ گزشتہ دسمبر میں دوبارہ کھولا گیا تھا اور عراقی مطالبہ نئی سفارتی کشیدگی کا سبب بن سکتا ہے۔

Symbolbild Iran Saudi Arabien 1024 x 576

سعودی ایرانی کشیدگی میں شام، عراق اور یمن کے تنازعات کے باعث کافی شدت آ چکی ہے

عراقی دارالحکومت سے اتوار اٹھائیس اگست کو موصولہ نیوز ایجنسی روئٹرز کی رپورٹوں میں بتایا گیا ہے کہ سعودی حکومت سے اپنے سفیر کی تبدیلی کا یہ باقاعدہ مطالبہ بغداد میں ملکی وزارت خارجہ نے کیا ہے اور اس کی آج ہی اپنی نشریات میں عراق کے سرکاری ٹیلی وژن نے بھی تصدیق کر دی۔

عراق میں بہت سے شیعہ سیاست دانوں کی طرف سے گزشتہ مہینوں کے دوران ملک کی شیعہ اکثریتی حکومت سے یہ مطالبات کیے جاتے رہے ہیں کہ بغداد میں سعودی سفیر ثمر السبحان کو ان کے متنازعہ بیانات کی وجہ سے ملک سے نکال دیا جائے۔

ثمر السبحان پچھلے چند ماہ کے دوران کئی مرتبہ ایسے بیانات دے چکے ہیں کہ ایران مبینہ طور پر عراقی معاملات میں مداخلت کر رہا ہے اور انہوں نے یہ دعوے بھی کیے تھے کہ ایرانی حمایت یافتہ عراقی شیعہ ملیشیا گروپ عراقی سنیوں کے ساتھ کشیدگی کو ہوا دے رہے ہیں۔

عراق میں موجودہ سعودی سفیر ثمر السبحان کے بارے میں پیر بائیس اگست کے روز بغداد میں وزارت خارجہ نے ان میڈیا رپورٹوں کی تردید کی تھی کہ عراق حکام کو مبینہ طور پر ایک ایسے منصوبے کا علم ہوا تھا، جس کا مقصد سعودی سفیر کو قتل کرنا تھا۔

سعودی عرب نے بغداد میں اپنا سفارت خانہ کافی عرصے تک بند رکھنے کے بعد گزشتہ برس دسمبر میں دوبارہ کھولا تھا اور ثمر السبحان وہ پہلے سعودی سفیر ہیں، جنہیں ریاض حکومت نے یہ سفارت خانہ دوبارہ کھولے جانے کے بعد عراق میں تعینات کیا تھا۔

Iran Konferenz Hashd Al Shaabi

عراق میں درجنوں شیعہ ملیشیا گروہ داعش کے خلاف سرگرم ہیں، جنہیں بغداد حکومت کی سرپرستی حاصل ہے اور جن میں کئی ایران نواز شیعہ جنگجو گروہ بھی شامل ہیں

عراقی وزارت خارجہ میں طلبی

ثمر السبحان نے عراقی وزیر خارجہ ابراہیم الجعفری کو بغداد میں ایک ملاقات کے دوران اپنی تقرری سے متعلق سفارتی اسناد اس سال 14 جنوری کو پیش کی تھیں لیکن اس کے محض قریب دو ہفتے بعد عراقی وزارت خارجہ نے السبحان کو ان کے چند متنازعہ بیانات کی وضاحت کے لیے طلب کر لیا تھا۔

عراقی وزارت خارجہ کی طرف سے اپنی اس طلبی سے قبل ثمر السبحان نے کہا تھا کہ ’اسلامک اسٹیٹ‘ یا داعش کے خلاف جنگ میں شامل ایرانی حمایت یافتہ شیعہ ملیشیا گروپوں کی عراق میں موجودگی مقامی سنی مسلم آبادی کے ساتھ کشیدگی میں اضافے کا سبب بن رہی ہے۔

وہابی مسلک کی حامل سنی مسلم آبادی کی اکثریت والے ملک سعودی عرب اور شیعہ اکثریتی آبادی والے ایران کے مابین عشروں سے کشیدگی پائی جاتی ہے، جو ان دونوں مسلم ریاستوں کے درمیان علاقائی تناؤ اور رقابت کی شکل بھی اختیار کر چکی ہے۔ اس کشیدگی میں گزشتہ چند برسوں کے دوران شام، عراق اور یمن کے مسلح تنازعات کے فرقہ ورانہ پہلوؤں کی وجہ سے مزید شدت آ چکی ہے۔

سعودی پالیسیاں نہیں بدلیں گی

بغداد سے اتوار کی سہ پہر ملنے والی رپورٹوں کے مطابق سعودی سفیر ثمر السبحان سے جب اس بارے میں دریافت کیا گیا کہ آیا وہ جلد ہی عراق سے چلے جائیں گے، تو انہوں نے کہا کہ ان کی عراق میں آئندہ موجودگی یا پھر سعودی عرب واپسی کا فیصلہ ریاض میں سعودی وزارت خارجہ کرے گی۔

تاہم آج ہی العربیہ ٹیلی وژن کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے عراقی حکومت کے سعودی عرب سے اپنی واپسی کے مطالبے کے پس منظر میں ثمر السبحان نے یہ بھی کہا کہ عراق اور سعودی عرب کے مابین تعلقات دوستانہ ہیں اور ’عراق سے متعلق سعودی پالیسیاں نہیں بدلیں گی‘۔

DW.COM