1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

ایران سے متعلق اوباما کا موقف اور لہجہ، دونوں سخت

امریکی صدر باراک اوباما نے ایران پر زور دیا ہے کہ اسے اپنے متنازعہ جوہری پروگرام سے متعلق شفافیت کے ساتھ تمام معلومات فراہم کردینی چاہییں جبکہ ایرانی صدر محمود احمدی نژاد نےمغرب کے تمام خدشات کوپھر بے بنیاد قرار دیا ۔

default

امریکی صدر باراک اوباما نے ایران پر زور دیا ہے کہ اسے یکم اکتوبر کو اپنے متنازعہ جوہری پروگرام سے متعلق مجوزہ مذاکرات میں’’شفافیت کے ساتھ تمام معلومات فراہم کردینی چاہییں‘‘ جبکہ روس اور چین نے بھی تہران حکومت سے تعاون کرنے کی اپیل کی ہے۔ دوسری جانب ایرانی صدر محمود احمدی نژاد نے ایٹمی پروگرام کے حوالے سے مغربی ممالک کے تمام خدشات کو ایک بار پھر ’’بے بنیاد‘‘ قرار دیا ہے۔

UN Iran Machmud Ahmadinedschad bei der Volversammlung

احمدی نژاذجنرل اسمبلی میں تقریر کرتے ہوئے

باراک اوباما نے ریاست پینسلوینیا کے شہر پٹسبرگ میں جی ٹوئنٹی کے دو روزہ سمٹ کے آخری روز ایران کے حوالے سے اپنے موقف میں پہلی بار سختی کا برملا مظاہرہ کیا۔ اوباما نے تہران کے خلاف فوجی کارروائی کے امکان کو بھی مسترد نہیں کیا تاہم ساتھ ہی کہا کہ سفارت کاری کے عمل کو ہی ترجیح دی جائے گی۔

امریکی صدر نے مزید کہا کہ جوہری عدم پھیلاوٴ کے حوالے سے عالمی طاقتیں آج اتنی متحد ہیں جتنی پہلے کبھی نہیں تھیں۔ اوباما نے واضح طور پر کہا کہ ’’جوہری پروگرام پرُ امن ہونے سے متلعق ایران کے قول و فعل یعنی لفظوں اور عمل میں تضاد پایا جاتا ہے۔‘‘

Mahmud Ahmadinedschad

احمدی نژاد نے کہا کہ باراک اوباما کوئی جوہری ماہر نہیں ہیں

ادھر ایرانی صدر محمود احمدی نژاد نے نیو یارک میں ایک گھنٹے تک جاری رہنے والی نیوز کانفرنس میں اس امید کا اظہار کیا کہ یکم اکتوبر کو ہونے والے مذاکرات میں ضرور پیش رفت ہوگی اور ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق سلامتی کونسل کے پانچ مستقل اراکین اور جرمنی کے خدشات دور ہوجائیں گے۔

Das Ende der Vernunft

بوشہرمیں ایران کے نیوکلیئر پلانٹ کا ایک منظر

اپنے ملک میں دوسرے جوہری افزودگی کے پلانٹ کے انکشاف کے حوالے سے ایرانی صدر نے کہا کہ تہران حکومت نے کسی قانون کی خلاف ورزی نہیں کی ہے۔ محمود احمدی نژاد نے کہا کہ تہران حکومت نے بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی IAEA کو اٹھارہ ماہ قبل ہی اپنے نئے جوہری پلانٹ کے بارے میں معلومات فراہم کیں۔ احمدی نژاد نے کہا کہ ان کی حکومت بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی کو نئے جوہری پلانٹ کا جائزہ لینے کی اجازت دینے میں بھی ہچکچاہٹ محسوس نہیں کرے گی۔

ایرانی صدر نے زور دے کر کہا کہ اس کا جوہری پروگرام ’’ہر لحاظ سے پرامن ہے۔‘‘ احمدی نژاد نے امریکی صدر کی طرف سے ظاہر کئے جانے والے خدشات کے بارے میں کہا: ’’امریکی صدر باراک اوباما کوئی جوہری ماہر نہیں ہیں۔ ایران کے ایٹمی پروگرام پر ماہرانہ رائے دینے کا حق صرف IAEA کو حاصل ہے۔‘‘

UN-Sicherheitsrat berät in Kenia über Sudan

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے پانچ مستقل اراکین اور جرمنی ایران پر مزید پابندیاں عائد کرنے کے موڈ میں ہیں

اس سے قبل برطانوی وزیر اعظم گورڈن براوٴن اور فرانسیسی صدر نکولا سرکوزی نے پٹسبرگ میں ایران کے دوسرے ایٹمی پلانٹ کے حوالے سے زبردست خدشات ظاہر کئے اور کہا کہ ’’ایران عالمی برادری کو دھوکہ دے رہا ہے۔‘‘

امریکہ، برطانیہ، فرانس اور جرمنی جیسی عالمی طاقتیں ایران کے نیوکلیئر پروگرام کے حوالے سے تہران حکومت پر مزید سخت پابندیاں عائد کرنے کے حق میں ہیں جبکہ اس بار روس اور چین بھی ایران پر پابندیاں لگانے کے حق میں دکھائی دے رہے ہیں۔

چین نے تہران پر زور دیا کہ اسے ایٹمی توانائی ایجنسی کی طرف سے اپنے نئے جوہری پلانٹ کی ممکنہ تفتیش میں رکاوٹیں کھڑی نہیں کرنی چاہییں جبکہ روسی صدر میدویدیف نے کہا کہ تہران کو اپنے ایٹمی پروگرام کے حوالے سے عالمی طاقتوں کے ساتھ بھرپور تعاون کرنا چاہیے۔

یکم اکتوبر کے مذاکرات میں ایران کی نمائندگی اعلیٰ مذاکرات کار سعید جلیلی کریں گے۔ ان مذاکارت کی ناکامی کی صورت میں ایران پر مزید سخت پابندیاں عائد ہونے کی توقعات ہیں۔

رپورٹ: گوہر نذیر گیلانی

ادارت: عابد حسین