1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

ایران، روحانی کے حامیوں کو سخت چیلنجز کا سامنا

ایران میں 26 فروری کوپارلیمانی اور مجلس خبرگان کے لیے انتخابات ہو رہے ہیں۔ ان انتخابات کے ذریعے کٹر نظریات کے حامل افراد کی پارلیمان پر بالادستی ختم بھی ہو سکتی ہے۔

ایران کے سیاسی اور اقتصادی شعبوں میں اصلاحات کے حامی گروپس صدر حسن روحانی کے حق میں ہیں۔ ان انتخابات مں یہ حلقے عالمی طاقتوں کے ساتھ ہونے والے جوہری معاہدے اور اس کے ثمرات سے لوگوں کو آگاہ کرتے ہوئے مزید حمایت حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ جبکہ دوسری جانب کٹر نظریات کی حامل قوتیں ہیں، جو اصلاحاتی عمل میں سست روی کا شور مچا کر عوام کو اعتدال پسندوں سے نالاں کرنے کی کوششوں میں لگی ہوئی ہیں۔

صدر روحانی کی ملک میں بڑھتی ہوئی مقبولیت سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کے کٹر نظریات کے حامل ساتھیوں کے لیے مشکل بننی ہوئی ہے۔ ایرانی وزارت داخلہ کے سینیئر اہلکار حسین علی امیری نے بتایا، ’’بارہ ہزار افراد نے اپنے کاغذات جمع کرائے تھے، جن میں سے تقریباً 6229 افراد کو پارلیمانی انتخابات میں حصہ لینے کا اہل قرار دیا گیا ہے۔‘‘ پارلیمانی انتخابات کے لیے جمعرات سے مہم کا آغاز ہو رہا ہے، جو ایک ہفتے تک جاری رہے گی۔ امیدواروں میں 586 خواتین بھی ہیں۔ ایرانی پارلیمان کی کل 290 نشستیں ہیں۔

اسی روز ایرانی کی مجلس خبرگان رہبری کے لیے بھی ووٹ ڈالے جائیں گے۔ 88 رکنی یہ کونسل ملک کے سپریم لیڈر کو منتخب کرتی ہے۔ ان انتخابات میں 161 امیدوار حصہ لے رہے ہیں۔ اعتدال پسند اس مجلس میں زیادہ سے زیادہ نشستیں حاصل کرتے ہوئے خامنہ ای کے جان نشین کے انتخابات میں کردار ادا کرنا چاہتے ہیں۔ خامنہ ای 76 سال کے ہیں اور انہیں طبی مسائل کا بھی سامنا ہے۔ انہوں نے اپنے ایک بیان میں کہا ،’’ مجلس خبرگان رہبری کے انتخابات بہت اہم ہیں کیونکہ وہ ضرورت پڑنے پر مستقبل کے سپریم لیڈر کا فیصلہ کرے گی اور اسی وجہ سے دشمن ان انتخابات پر نظریں جمائے ہوئے ہیں۔‘‘ ان انتخابات میں آیت اللہ خمینی کے پوتے حسن خمینی بھی حصہ لینے چاہتے تھے تاہم انہیں نا اہل قرار دے دیا گیا۔ ان کا شمار حسن روحانی کے حامیوں میں ہوتا ہے۔

اگر ان انتخابات میں کٹر نظریات کے حامل افراد اپنے اعتدال پسند حریفوں سے شکست کھا بھی گئے تو بھی فیصلہ کرنے کا مکمل اختیار خامنہ ای یعنی سپریم لیڈر کے ہاتھوں میں ہی رہے گا کیونکہ صدر اور اراکین پارلیمان عارضی طور پر ان عہدوں پر فائز ہوتے ہیں۔ انتخابات حسن روحانی کی اعتدال پسندانہ پالیسیوں کا ایک امتحان بھی قرار دیا جا رہا ہے۔