1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

ایران دہشت گردی کی سرپرست ریاست بن چکی ہے، امریکا

امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق گزشتہ برس عالمی سطح پر  دہشت گردی کے واقعات اور ہلاکتوں میں کمی آئی ہے۔ امریکا نے تاہم ایران کو دہشت گردی کی سرپرست ریاست قرار دیا ہے۔

USA Gedenken an Jurist Antonin Scalia in Washington (picture-alliance/dpa/M. Reynolds)

امریکا نے شیعہ اکثریتی ملک ایران کو با ضابطہ طور پر ’دہشت گردی کا اسپانسر‘ قرار دیا ہے

دنیا بھر میں دہشت گردی کے حوالے سے ہر ملک کے سالانہ انفرادی جائزے کی ایک رپورٹ میں امریکی محکمہ خارجہ نے طالبان اور جہادی گروپوں داعش اور القاعدہ کو دہشت گردی کا مرکزی مجرم قرار دیا ہے۔

 رپورٹ کے مطابق سن 2015 کے مقابلے میں گزشتہ برس مجموعی طور پر دہشت گردانہ حملوں میں نو فیصد جبکہ اِن کے نتیجے میں ہونے والی ہلاکتوں میں 13 فیصد کمی واقع ہوئی ہے۔

امریکی محکمہ خارجہ میں انسداد دہشت گردی کے قائم مقام رابطہ کار جسٹن سبریل کا کہنا ہے کہ گزشتہ برس دہشت گردی کے نصف سے زیادہ واقعات بھارت، پاکستان، عراق، فلپائن اور افغانستان میں ہوئے۔

اس رپورٹ کے مطابق،’’ متعدد حملوں کے پس پشت اسلام کے سنی عقیدے سے تعلق رکھنے والے بنیاد پرست کارفرما تھے، جو مغرب کو اپنی آئیڈیالوجی کے لیے خطرہ تصور کرتے ہیں اور اسلام کی دیگر شاخوں سے متصادم ہیں۔‘‘

Irak Kampf um Mosul (Reuters/A. Saad)

امریکا نے طالبان اور جہادی گروپوں داعش اور القاعدہ کو دہشت گردی کا مرکزی مجرم قرار دیا ہے

رپورٹ میں ایک بار پھر شیعہ اکثریتی ملک ایران کو با ضابطہ طور پر لبنان میں شیعہ تحریک حزب اللہ کے لیے اس کی طویل حمایت کا حوالہ دیتے ہوئے ’دہشت گردی کا اسپانسر‘ قرار دیا گیا ہے۔ امریکا نے حزب اللہ کو دہشت گرد تنظیم قرار دے رکھا ہے۔

 علاوہ ازیں رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ایران القاعدہ کے اُن سینیئر ممبران کے خلاف مقدمے کی سماعت پر  تیار نہیں جنہیں اُس نے قید کر رکھا ہے۔

 رپورٹ کے مطابق،’’ کم از کم سن 2009 سے ایران نے القاعدہ کے سہولت کاروں کو اجازت دے رکھی ہے کہ وہ ایرانی سرزمین کے ذریعے القاعدہ کو فنڈز اور جنگجو جنوبی ایشیا اور شام تک منتقل کر سکتے ہیں۔

سبریل نے گزشتہ برس دہشت گردانہ حملوں میں کمی کی کوئی وجہ بیان نہیں کی تاہم  شام اور عراق میں جہادی گروپ اسلامک اسٹیٹ پر اتحادی افواج کے بڑھتے ہوئے دباؤکا ذکر ضرور کیا۔

DW.COM