1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

ایران دو سال میں جوہری ہتھیار بنا سکتا ہے، تھِنک ٹینک

لندن کے ایک تھِنک ٹینک نے کہا ہے کہ ایران دو سال میں اپنا پہلا جوہری ہتھیار تیار کر سکتا ہے، تاہم وہ اس مقصد کے لیے تیز تر کوششں کر نہیں رہا۔ یہ رپورٹ تازہ ترین شواہد کا تجزیہ کرنے کے بعد جاری کی گئی ہے۔

default

لندن سے جاری کی گئی اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایران کی ایٹمی صلاحیت وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ بڑھتی جارہی ہے اور تہران حکام کے اس دعوے پر یقین نہیں کیا جا سکتا کہ ان کا جوہری پروگرام پرامن مقاصد کے لیے ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اگر ایران ایٹمی ہتھیار بنانا چاہتا ہے تو اسے اپنی کوششں مزید تیز کرنا ہوں گی۔ یہ بھی بتایا گیا ہے کہ پاکستان یورینیم کی افزودگی شروع کرنے کے 11 سال بعد ایٹمی ہتھیار بنانے کے قابل ہوا تھا۔

Iran Atomanlage in Isfahan Uran

اگر ایران جوہری ہتھیار بنانے کا ارادہ کرتا ہے تواسبملنگ سے پہلے ہی ان کا پتہ چلایا جا سکتا ہے

تھِنک ٹینکIISS کے ڈائریکٹر جنرل اور چیف ایگزیکٹو جان چپمان نے سابق امریکی محکمہ خارجہ کے اہلکار اور ایٹمی عدم پھیلاؤ کے ماہر مارک فٹس پیٹرک کی طرف سے کئے گئے ایک تجزیے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ اور اسرائیل مذاکرات کے لئے مزید وقت دینے کو تیار ہیں۔

رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ اگر ایران جوہری ہتھیار بنانے کا ارادہ کرتا ہے تواسبملنگ سے پہلے ہی ان کا پتہ چلایا جا سکتا ہے جبکہ ایران کو اس مقصد کے حصول کے لیے چھوٹے ہتھیار بھی بہتر بنانے ہوں گے۔

گزشتہ مہینے اسرائیل کی ملٹری انٹیلی جنس کے سربراہ نے کہا تھا کہ ایران فی الحال جوہری ہتھیار بنانے پر عمل پیرا نہیں ہے۔ تاہم اگر ایران یہ فیصلہ کرتا ہے تو دو سے تین برس کے اندر وہ ایٹمی ہتھیار بنا سکتا ہے۔

حال ہی میں اسرائیلی انٹیلی جنس ایجنسی موساد کے سابق سربراہ Meir Dagan سمیت کئی سینیئر اسرائیلی حکام کا کہنا تھا کہ ایران 2015ء سے قبل جوہری ہتھیار تیار نہیں کر سکتا۔

گزشتہ برس جون میں سی آئی اے کے ڈائریکٹر لیون پینیٹا نے خبردار کیا تھا کہ ایران کے پاس دو ہتھیاروں کے لئے کم افزودہ یورینیم موجود ہے لیکن ایک بم بنانے کے لئے اسے مکمل طور پر افزودہ کرنا ہو گا جس کے لئے اسے مجموعی طور پر دو سال کا عرصہ درکار ہوگا۔

رپورٹ میں بین الاقوامی اسٹریٹیجک اسٹڈیز کے ادارے (IISS) نے کہا کہ اس مسئلے کے حل کے لیے بین الاقوامی برادری کو مذاکرات کے لیے مزید وقت دیا جانا چاہیے۔

رپورٹ: امتیاز احمد

ادارت: ندیم گِل

DW.COM