1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

ایران خلیجی ملکوں سے مذاکرات کرے گا

شام اور یمن کے معاملے میں پائے جانے والے اختلافات کے خاتمے کے لیے ایران چھ خلیجی ملکوں سے براہ راست مذاکرات کرنے کا منصوبہ بنا رہا ہے۔ ان ممکنہ مذاکرات میں ترکی کی بھی شامل ہو سکتا ہے۔

میڈیا رپورٹوں کے مطابق چھ عالمی طاقتوں کے ساتھ طے پانے والے جوہری معاہدے کے بعد تہران حکومت اور خلیجی ممالک کے مابین مذاکرات کا پہلا دور ستمبر میں ہو گا۔ تہران حکومت کے مطابق جوہری معاہدے کے ساتھ بین الاقوامی سطح پر نہ صرف اس کی تنہائی ختم ہوئی ہے بلکہ یہی معاہدہ ہمسایہ ملکوں کے ساتھ تعاون کی بنیاد فراہم کرتا ہے۔

ایران کی اسنا نیوز ایجنسی نے عرب اور افریقی امور کے ملکی نائب وزیر خارجہ حسین امیر عبداللهیان کے حوالے سے بتایا ہے کہ بحرین، قطر، کویت، عمان، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے ساتھ مذاکرات کسی علاقائی ملک میں ہی ہوں گے یا کسی غیر جانبدار جگہ پر۔

ایران کا مزید کہنا تھا کہ شام اور یمن کے معاملے پر کسی مشترکہ پالیسی کے بغیر داعش کو شکست سے دوچار نہیں کیا جا سکتا۔ بتایا گیا ہے کہ ان مذاکرات میں ممکنہ طور پر ترکی بھی شمولیت اختیار کر سکتا ہے۔ یاد رہے کہ شام کے صدر اسد کے حوالے سے ایران خطے کی وہ واحد طاقت سے جو ان کی حمایت جاری رکھے ہوئے ہے۔ اس کے علاوہ ایران ہی ہے جو لبنانی شیعہ گروپ حزب اللہ کو مدد فراہم کرتا ہے اور یہی تنظیم صدر اسد کو اپنے جنگجو فراہم کر رہی ہے۔ دوسری جانب خیال کیا جاتا ہے کہ سنی خلیجی ممالک ایران کی مخالفت میں سنی شدت پسندوں کا ساتھ دے رہے ہیں، جس کا فائدہ کسی نہ کسی طریقے سے داعش کو بھی پہنچ رہا ہے۔

دوسری جانب ایران یمن میں حوثی باغیوں کی حمایت بھی جاری رکھے ہوئے ہے اور وہاں سعودی حکومت اور اس کے اتحادی حوثی باغیوں کے خلاف کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔

تجزیہ کاروں کے مطابق جوہری ڈیل کے بعد ایران اب علاقائی سیاست پر توجہ مرکوز کر رہا ہے۔ رواں ہفتے ایرانی وزیر خارجہ جواد ظریف نے صدر اسد سے ملاقات کے لیے دمشق کا دورہ کیا تھا جبکہ انہوں نے پاکستانی حکام سے بھی ملاقاتیں کی ہیں۔