1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

ایران حوثی باغیوں کو ’ڈرون‘ فراہم کر رہا ہے، یو اے ای

متحدہ عرب امارات کے مطابق ایران یمن میں حوثی باغیوں کو ’ڈرون‘ فراہم کر رہا ہے۔ یو اے ای کی طرف سے ایرانی سفارت خانے کے ناظم الامور کو طلب کرتے ہوئے احتجاج بھی کیا گیا ہے۔ دوسری جانب ایک مزید سعودی فوجی ہلاک ہو گیا ہے۔

متحدہ عرب امارات نے جمعرات کے روز ایرانی ناظم الامور کو طلب کرتے ہوئے اس بات پر احتجاج کیا ہے کہ وہ مبینہ طور پر حوثی باغیوں کو ہتھیار فراہم کرنے کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہے۔ اس خلیجی ملک نے یہ الزام بھی عائد کیا ہے کہ ایران نے یمنی حکومت کے خلاف لڑائی کرنے والے حوثی باغیوں کو ’ڈرون‘ فراہم کرنے کا سلسلہ بھی جاری رکھا ہوا ہے۔

اماراتی سرکاری نیوز ایجنسی وام کی طرف سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے، ’’ایرانی سفارت خانے کے ناظم الامور کو طلب کر کے یمنی حوثی شیعہ ملیشیا کو ڈرونز فراہم کرنے پر احتجاجی مراسلہ دیا گیا ہے۔ ‘‘ احتجاجی مراسلے میں کہا گیا کہ یمنی باغیوں کو ہتھیار اور ڈرون فراہم کرنے سے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی منظور شدہ قراردادوں کی کھلی خلاف ورزی کی گئی ہے۔

سعودی عرب نے میزائل حملہ ناکام بنا دیا

یہ امر اہم ہے کہ چند روز قبل متحدہ عرب امارات کی فوج نے یمن کے مغربی بندر گاہی شہر المخا میں ایک ایرانی ڈرون کو اُس کے موبائل پیڈ پر تباہ کرنے کا دعویٰ کیا تھا۔

خانہ جنگی کے شکار ملک یمن میں حوثی باغیوں کے خلاف کارروائیاں کرنے والے سعودی عسکری اتحاد میں متحدہ عرب امارات بھی شامل ہے اور  یہ ریاض حکومت کا کلیدی اتحادی بھی ہے۔ یمنی حکومت اور اس کے سنی اتحادیوں کی طرف سے اکثر اوقات یہ الزام عائد کیا جاتا ہے کہ ایران حوثی باغیوں کو مسلح کرنے کا عمل جاری رکھے ہوئے ہے جبکہ ایران اس الزام کو مسترد کرتا ہے۔ اقوام متحدہ کے مطابق یمن کی جنگ میں سات ہزار چار سو سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

دوسری جانب آج ہی سعودی وزارت داخلہ نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ یمن کی سرحد پر ہونے والی ایک جھڑپ کے دوران ان کا مزید ایک فوجی مارا گیا ہے۔ یہ فوجی اس وقت ہلاک ہوا، جب یمنی باغیوں نے صوبہ جازان میں ایک چوکی کو نشانہ بنایا۔ قبل ازیں پیر کے روز بھی باغیوں کے ایک حملے میں دو سعودی فوجی مارے گئے تھے۔

DW.COM