1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

ایران جوہری ہتھیاروں کا جنون رکھتا ہے، سارکوزی

فرانسیسی صدر نکولا سارکوزی نے اپنے دورہ ء امریکہ کے دوران امریکی صدر باراک اوباما سے ملاقات کی جس دوران ایران کےجوہری پروگرام اور ممکنہ پابندیوں پر تبادلہ خیال ہوا۔

default

امریکی صدر سے ملاقات کے بعد فرانسیسی صدر نکولا سارکوزی نے کہا کہ ایران کا جوہری پروگرام مشکوک ہے اور ایران جوہری ہتھیار سازی کا جنون رکھتا ہے۔ امریکی صدر کی رہائش گاہ وائٹ ہاؤس میں مشترکہ پریس کانفرنس میں سارکوزی نے واضح کیا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ ایرانی جوہری پروگرام کے حوالے سے مناسب فیصلہ کیا جائے۔ اِس موقع پر سارکوزی نے کہا کہ جرمن چانسلر انگیلا میرکل اور برطانوی وزیر اعظم گورڈن براؤن کے ساتھ مل کر ضروری کوششیں کی جائیں گی تا کہ پابندیوں کے حوالے سے یورپ متحد ہو۔

پریس کانفرنس میں امریکی صدر اوباما نے کہا کہ وہ اگلے چند ہفتوں میں پابندیوں کو عملی شکل میں دیکھ رہے ہیں اور اب بات مہینوں پر نہیں ٹھہری ہوئی۔ ایران پر ممکنہ پابندیوں کے وقت کے حوالے سے اوباما نے اس سے قبل گزشتہ سال کے آخر کا عندیہ دیا تھا۔ اوباما نے کہا کہ اُن کا ملک بین الاقوامی برادری کے ساتھ خاصی محنت سے اِس معاملے کو آگے بڑھا رہا ہے۔ اِس موقع پر امریکی صدر نے واضح کیا کہ سردست کوئی متفقہ لائحہ عمل موجود نہیں لیکن امید ہے کہ بہار کے موسم میں پابندیوں کے معاملے کو حتمی شکل دے دی جائے گی۔

Israel Siedlung in Ost-Jerusalem Flash-Galerie

دونوں رہنماؤں نے اسرائیل کی جانب سے مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں نئی تعمیرات کے بعد پیدا شدہ صورتحال پر بھی بات کی

اوباما نے یہ بھی کہا کہ ایرانی جوہری پرگرام کے حوالے سے بین الاقوامی کمیونٹی پہلی بار متحد دکھائی دیتی ہے۔ اوباما کا یہ بھی کہنا تھا کہ ایران جوہری پروگرام پر بین الاقوامی سفارتکاری کو تسلیم کرنے پر راضی دکھائی نہیں دیتا۔

اوباما اور سارکوزی وائٹ ہاؤس میں پرائیویٹ انداز میں امریکی صدر کے دفتر میں ملے۔ اُن کی ملاقات میں گفتگو کے دوران مشرق وسطیٰ کے معطل شدہ امن مذاکرات پر بھی بات کی گئی۔ اِس کے علاوہ مالیاتی اداروں کی نگرانی کے لئے بنائے جانے والے ضوابط بھی بات چیت میں شامل تھے۔ دونوں صدور اور اُن کی بیویاں ایک عشائیے میں بھی شریک ہوئیں۔

ایرانی جوہری پروگرام کو روکنے کے سلسلے میں ممکنہ پابندیوں کے نئے عمل میں امریکی کوششیں بار آور ثابت ہو رہی ہیں۔ روس کا جھکاؤ بھی امریکی مؤقف کی جانب ہے اور امریکی وزیر خارجہ ہلیری کلنٹن کو یقین ہے کہ چین بھی اِس معاملے میں اُن کی قرارداد کی حمایت کرے گا۔

رپورٹ عابد حسین

ادارت شادی خان سیف