1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

ایران جوہری پروگرام پر مذاکرات کے لئے آمادہ

ایران نے اگلے ہفتے جنیوا میں مغربی حکام کے ساتھ ملاقات پر آمادگی ظاہر کر دی ہے۔ 14 ماہ کے دوران جوہری توانائی پر ایران کے ساتھ یہ پہلےاعلٰی سطحی مذاکرات ہوں گے۔

default

2009ء کے مذاکرات میں سعید جلیلی

ایران کے جوہری مذاکرات کار سعید جلیل کی یہ ملاقات یورپی یونین کی امور خارجہ کی افسر اعلٰی کیتھرین ایشٹن سے چھ اور سات دسمبر کو ہو گی۔ ایشٹن کے ترجمان کے مطابق ایران کی جانب سے اس ملاقات کی باضابطہ آمادگی ظاہر کر دی گئی ہے۔

NO FLASH Neues Atomkraftwerk Buschehr im Iran

ایران کی طرف سے بوشہر پاور پلانٹ میں ایٹمی ایندھن بھرنے کے کام کا آغاز کیا گیا تھا

ایشٹن کو امریکہ، برطانیہ، فرانس، جرمنی، چین اور روس کی بھی تائید و حمایت حاصل ہے۔ اِس بات کا بھی امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ اس موقع پر ان چھ ملکوں کے نمائندے بھی شرکت کریں گے۔ یہ چھ عالمی طاقتیں اس بات کی امید کر رہی ہیں کہ ایران کے ساتھ ان مذاکرات میں تہران کے متنازعہ جوہری پروگرام پر بات چیت کی جائے گی تاہم ایرانی صدر محمود احمدی نژاد اس بات کو کئی بار دہرا چکے ہیں کہ ایران اپنے جوہری پروگرام پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔

مغربی سفارت کاروں کے مطابق وہ اس ملاقات سے کسی بڑی پیش رفت کی امید نہیں رکھتے تاہم اس اہم معاملے پر مذاکرات کا ہونا ہی ایک امید افزا بات ہے۔ واضح رہے کہ ایران کوجون کے مہینے میں اقوام متحدہ کی جانب سے چوتھی بار پابندیاں عائد کئے جانے کے بعد سے جوہری پروگرام پر مذاکرات کرنے کے لئے دباؤ کا سامنا ہے۔

رپورٹ: عنبرین فاطمہ

ادارت: امجد علی

DW.COM