1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

ایران: جوہری معاہدہ کروانے والے مذاکرات کاروں کے لیے ایوارڈز

ایرانی وزیر خارجہ محمد جواد ظریف، وزیر دفاع حسین دہقان اور نائب صدر علی اکبر صالحی کودنیا کی بڑی طاقتوں کے ساتھ جوہری معاہدہ طے کراوانے کے اعتراف میں ایران کے صدر کی جانب ایوارڈ دیے گئے ہیں۔

فرانسیسی خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کی ایک رپورٹ کے مطابق ایران کے صدر حسن روحانی کی جانب سے ایرانی وزیر خارجہ کو ’میڈل آف میرٹ‘ جبکہ نائب صدر، جو کہ ایران کے جوہری ادارے کے سربراہ بھی ہیں اور وزیر دفاع کو ’میڈل آف کرّج‘ سے نوازا گیا ہے۔

14 جولائی سن 2015 کے تاریخی معاہدے کے تحت ایران پر لگائی گئی بین الاقوامی پابندیاں گزشتہ ماہ اس وقت ہٹا دی گئیں، جب اقوام متحدہ نے اس بات کی تصدیق کر دی تھی کہ ایران نے اپنی جوہری سرگرمیوں کو کم کرنے کے حوالے سے تمام وعدوں پر عمل درآمد کیا ہے۔

اعلیٰ ایرانی حکام کو ایوارڈز دینے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ایرانی صدر روحانی نے کہا، ’’ ہم مشکل دنوں، کٹھن راتوں اور گھنٹوں کو پیچھے چھوڑ آئے ہیں، ہم نے صحیح راستہ اپنایا اسی لیے خدا نے ہمیں تنہا نہیں چھوڑا۔‘‘

حسن روحانی سن 2013 کے عام انتخابات میں کامیابی حاصل کرنے کے بعد بطور صدر منتخب ہوئے تھے۔ اس جوہری معاہدے اور پابندیوں کے اٹھ جانے کے بعد ایران میں ان کی مقبولیت میں بے پناہ اضافہ ہوا ہے۔ حسن روحانی جوہری معاہدے کے مخالفین کی شدید مزاحمت کے باوجود جوہری مذاکرات اور اس معاہدے کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کے پر زورحامی تھے۔ اس معاہدے کو ایرانی صدر کی اہم کامیابیوں کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

حسن روحانی نے ایران کے روحانی پیشوا آیت اللہ خامنہ ای کا بھی شکریہ ادا کیا۔ تقریب سے خطاب میں حسن روحانی نے کہا، ’’روحانی پیشوا کے بغیر، ملکی اتحاد ممکن نہیں، ان کے بغیر ہماری جوہری کامیابیاں ممکن نہ ہوتیں اور ممکن ہے کہ ہم اس معاہدے تک بھی نہ پہنچ پاتے۔‘‘