1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

ایران جرمن صحافی رہا کرے، 100 شخصیات کی اپیل

جرمنی میں سیاست، معیشت، ثقافت اور کھیل کے شعبوں کی ایک سو مشہور شخصیات نے ایران میں زیرِ حراست دو جرمن صحافیوں کی رہائی کی اپیل کی ہے۔ یہ اپیل اتوار کے ’بِلڈ اَم زونٹاگ‘ میں شائع ہوئی ہے، جس سے یہ صحافی وابستہ ہیں۔

default

یہ دونوں جرمن صحافی گزشتہ 80 دنوں سے ایران میں قید ہیں۔ اُنہیں دَس اکتوبر کو اُس وقت گرفتار کر لیا گیا تھا، جب وہ سزائے موت پانے والی ایرانی خاتون سکینہ محمدی اَشتیانی کے بیٹے کے ساتھ ایک انٹرویو ریکارڈ کر رہے تھے۔ اُن پر الزام ہے کہ وہ صحافیوں کے طور پر نہیں بلکہ عام سیاحتی ویزے پر ایران میں مقیم تھے۔

اِن صحافیوں کے ساتھ یک جہتی کے اظہار کے لئے اپیل جاری کرنے والوں میں متعدد وفاقی وزراء، وفاقی پارلیمان میں نمائندگی رکھنے والی تمام سیاسی جماعتوں کے نمائندے، مرکزی جرمن ٹریڈ یونین تنظیم اور معیشی شعبے کے نمایاں ناموں کے ساتھ ساتھ نوبل انعام اور آسکر ایوارڈ جیتنے والی شخصیات بھی شامل ہیں۔

Flash-Galerie inhaftierte deutsche Journalisten im Iran

مقید جرمن صحافی دائیں جانب

جرمن وزیر خارجہ گیڈو ویسٹر ویلے نے کہا کہ ’دونوں رپورٹروں کوجلد از جلد رہا کیا جانا چاہئے اور واپس جرمنی آنا چاہئے۔ اِس مقصد کے لئے مَیں اِس نئے سال میں بھی پوری قوت کے ساتھ کوششیں کروں گا‘۔

جرمن وزیر دفاع کارل تھیوڈور سُو گٹن برگ نے اِن صحافیوں کو بدستور زیرِ حراست رکھنے سے ایران کو خبردار کرتے ہوئے کہا:’’مَیں ایران سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ اِن دونوں کو جلد از جلد رہا کر دے۔ ایران جیسا ایک ملک، جو مسلسل یہ بات کہتا ہے کہ اُس کے موقف کو سمجھا جانا چاہئے، یہ خیال رکھنا چاہئے کہ وہ اپنی ساکھ کو داؤ پر نہ لگائے۔‘‘

inhaftierte deutsche Journalisten im Iran

دوسرا مقید صحافی، بائیں جانب

وزیر مالیات وولف گانگ شوئبلے اور خاتون وزیر محنت اُرسلا فان ڈیئر لایَن نے بھی ایران سے اپیل کی ہے کہ وہ اِن دونوں صحافیوں کو واپس اپنے اہلِ خانہ کے پاس آنے دے۔ اپوزیشن سوشل ڈیموکریٹک پارٹی کے چیئرمین زیگمار گابریئل نے بھی اِن دونوں صحافیوں کی فوری رہائی کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ ’یہ محض پریس کی آزادی اور انسانی حقوق کا ہی سوال نہیں بلکہ انسانیت کا تقاضا بھی ہے‘۔

جرمن ٹریڈ یونین تنظیم DGB کے صدر مشائیل زومر نے اِن صحافیوں کی رہائی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ ’دُنیا میں احترام کے خواہاں کسی بھی ملک کو پریس کی آزادی کا بھی احترام کرنا چاہئے‘۔ ادب کا نوبیل انعام پانے والی جرمن ادیبہ ہیرتھا ملر نے امید ظاہر کی کہ ’ایران ان دونوں صحافیوں کو انپے دیگر مفادات کے لئے ضمانت کے طور پر استعمال نہیں کرے گا‘۔

رپورٹ: امجد علی

ادارت: شادی خان سیف

DW.COM