1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

ایران: تیل بردار بحری جہاز ہی نہیں، خام تیل برآمد کیسے ہو؟

پابندیوں کے خاتمے کے بعد سے ایران جلد از جلد تیل کی عالمی منڈی میں قدم جمانا چاہتا ہے۔ لیکن مسئلہ یہ ہے کہ ایران کے پاس کارآمد تیل بردار بحری جہاز ہی بہت کم ہیں اور غیر ملکی کمپنیاں بھی کوئی ڈیل کرنے سے گریزاں ہیں۔

یورپ نے سن دو ہزار گیارہ اور بارہ میں ایرانی تیل خریدنے کے حوالے سے پابندیاں عائد کر دی تھیں۔ یورپ کے اس فیصلے کے بعد ایران تیل کی ایک تہائی سے زیادہ برآمدات سے محروم ہو اور اس کا مکمل انحصار ایشیائی خریداروں پر ہو گیا تھا۔

ایران کے ایک اعلیٰ حکومتی عہدیدار کا نیوز ایجنسی روئٹرز سے گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا کہ ایرانی بیڑے میں پچپن سے ساٹھ آئل ٹینکر شامل ہیں۔ تاہم انہوں نے یہ بتانے سے انکار کیا کہ ان میں سے کتنے کارگو جہازوں کو خام تیل ذخیرہ کرنے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔

ایرانی تیل انڈسٹری کے ذرائع کے مطابق ان میں سے پچیس سے ستائیس کارگو ٹینکرز ایرانی سمندری ٹرمینلز پر لنگر انداز ہیں اور انہیں تیل ذخیرہ کرنے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔

دوسری جانب اس ایرانی عہدیدار نے یہ ضرور بتایا ہے کہ تقریباﹰ بیس کے قریب بڑے کارگو ٹینکرز کو جدید اور بین الاقوامی معیار کے مطابق بنانے کی ضرورت ہے تاکہ یہ سمندر میں سفر کے قابل ہو سکیں۔

Iran Insel Chark Ölindustrie

ایران پر عائد پابندیوں کے خاتمے کے بعد سے آٹھ غیرملکی ٹینکر ایرانی تیل برآمد کر رہے ہیں

تیل بردار بحری جہازوں کی نقل و حرکت کے حوالے سے تیار کیے جانے والے بین الاقوامی شیپنگ ڈیٹا کے مطابق ایران کے پاس باقی گیارہ ٹینکرز بچتے ہیں اور وہ انہیں ایشیا میں تیل کی سپلائی کے لیے استعمال کر رہا ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق بڑی سطح پر تیل برآمد کرنے اور پابندیوں سے پہلے والی سطح پر پہنچنے کے لیے ایران کو فوری طور پر غیر ملکی تیل بردار بحری جہازوں کے ضرورت ہے۔ لیکن مسئلہ یہ بھی ہے کہ تیل کی مارکیٹ میں کام کرنے والی بہت سی کمپنیاں ایران کے ساتھ کاروبار کرنے سے گریزاں ہیں۔

اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ کچھ امریکی پابندیاں ابھی تک ایران کے خلاف عائد ہیں اور ان میں یہ بھی شامل ہے کہ ایران کے ساتھ ڈالر میں تجارت نہیں ہو سکتی جبکہ امریکی فرموں اور بینکوں کو بھی ابھی تک ایران سے براہ راست تجارت کرنے کی اجازت نہیں دی گئی۔ سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ تیل بردار بحری جہازوں کا کاروبار ڈالر میں کیا جاتا ہے اور کمپنیاں کسی دوسری کرنسی میں کاروبار کرنے کا خطرہ مول نہیں لینا چاہتیں۔

دوسری وجہ یہ بھی ہے کہ جنوری میں باراک اوباما کی جگہ کوئی نیا امریکی صدر سنبھال لے گا اور یہ بھی خطرہ موجود ہے کہ ایران کے ساتھ جوہری معاہدے کے حوالے سے کوئی تبدیلی واقع ہو سکتی ہے۔

ایران پر عائد پابندیوں کے خاتمے کے بعد سے آٹھ غیرملکی ٹینکر ایرانی تیل برآمد کر رہے ہیں اور یہ ابھی تک آٹھ ملین بیرل خام تیل یورپ تک پہنچا چکے ہیں۔ پابندیاں عائد ہونے سے پہلے اتنا تیل ایران صرف دس دن میں فروخت کر لیا کرتا تھا۔ اس وقت یورپ ایران سے یومیہ آٹھ لاکھ بیرل تیل خریدتا تھا۔ پابندیوں کے بعد سے ایران صرف یورپ کو ہی تیل برآمد کر سکا ہے۔