1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

ایران: بم دھماکوں میں ملوث 40 مشتبہ افراد گرفتار

ایرانی پولیس نے زاہدان کی ایک بڑی مسجد میں دو بم دھماکوں میں مبینہ طور پر ملوث چالیس افراد کو گرفتار کر لیا ہے۔ گزشتہ جمعرات کو ہونے والے اس دہشت گردانہ واقعے میں ستائیس افراد جاں بحق اور 160 سے زائد زخمی ہوئے تھے۔

default

ایرانی پولیس اہلکار

خبر رساں ایجنسی فارس کے مطابق ایرانی پولیس کے نائب سربراہ احمد رضا رادان نے کہا ہے کہ یہ 40 افراد ایران کے صوبے سیستان بلوچستان کے دارالحکومت زاہدان  کی مسجد میں بم دھماکوں کے بعد علاقے میں بد امنی اور انتشار پھیلانے کی کوششیں کر رہے تھے۔ اُن واقعات کی ذمہ داری سُنی انتہا پسند گروپ جُند اللہ نے قبول کی تھی۔ اس گروپ نے ساتھ ہی یہ بھی کہا تھا کہ یہ حملہ جند اللہ کے رہنما عبدالمالک ریگی کو سزائے موت دئے جانے کا بدلہ  ہے۔ اِس سزا پر جون میں عملدرآمد کیا گیا تھا۔

Hillary Clinton und Ayatollah Ali Khamenei Kombo

امریکی وزیر خارجہ ہلیری کلنٹن نے بھی زاہدان کی مسجد میں ہونے والے بم دھماکوں کی مذمت کی

اُدھر امریکی صدر باراک اوباما اور وزیر خارجہ ہلیری کلنٹن ، اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل بان کی مون اور یورپی یونین کی خارجہ امور کی نگراں کیتھرین ایشٹن  نے ایران میں ہونے والے ان تازہ ترین واقعات کی مذمت کی ہے اور کہا ہے کہ ان میں ملوث مجرمان کو کیفر کردار تک پہنچایا جانا چاہیے۔’’اس قسم کی دہشت گردی، بزدلی اور بغیر سوچے سمجھے کی جانے والی کارروائیوں کا کوئی جواز نہیں بنتا ہے۔‘‘

 ایران کے صوبے سیستان بلوچستان کی سرحدیں پڑوسی ممالک افغانستان اور پاکستان سے ملتی ہیں۔ یہ علاقہ منشیات کی سمگلنگ اور جرائم پیشہ افراد کی سرگرمیوں کا گڑھ بھی تصور کیا جاتا ہے۔ سُنی عسکریت پسند گروپ جُنداللہ نے کچھ عرصے سے اسی علاقے کو خودکُش بم حملوں اور دیگر پرتشّدد کارروائیوں کا نشانہ بنایا ہوا ہے۔ ایران کا ماننا ہے کہ جنداللہ گروپ کے باغیوں کی پشت پناہی امریکہ کر رہا ہے تاہم امریکہ اس الزام کی تردید کرچکا ہے۔

Iran Bombenanschlag in Zahedan

بم دھماکوں کے بعد حالات قابو میں ہیں،ایرانی وزیر داخلہ

دریں اثناء زاہدان کی مسجد میں دوہرے بم  دھماکے میں جاں بحق ہونے والے 27 افراد کی تدفین اور آخری رسومات ادا کر دی گئیں۔ ہزاروں ایرانی باشندوں نے ان کے جنازے میں شرکت کی۔

ایران کے نائب وزیر داخلہ علی عبداللہ ہی نے سرکاری ٹیلی وژن کو ایک بیان دیتے ہوئےکہا:’’اس گھناؤنے جرم میں ملوث افراد نے تربیت ہماری سر زمین سے نہیں بلکہ باہر سے حاصل کی اور پھر ہماری سرحدوں میں داخل ہوئے۔ جنہوں نے ان دہشت گردوں کو تربیت اور اسلحہ فراہم کیا انہیں معلوم ہونا چاہیے کہ وہ ہی اس بھیانک واقعہ کے ذمہ دار ہیں۔‘‘ ایران کے نائب وزیر داخلہ نے اپنے مشرقی پڑوسی ممالک پر زور دیا ہے کہ وہ اپنی سر زمین کو دہشت گردوں کی کارروائیوں کے لئے استعمال نہ ہونے دیں۔  

ایران کے وزیر داخلہ مصطٰفی محمد نجار  نے اسرائیل پر الزام عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ مسلسل شیعہ سُنی فسادات کے ذریعے اپنے دیرینہ  دشمن ایران کو غیر مستحکم کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ تاہم نجار نے کہا ہے کہ اُن کی سکیورٹی فورسز اور خفیہ سروسز حالات کو قابو میں رکھنے میں کامیاب رہے ہیں۔

رپورٹ: کشور مصطفیٰ

ادارت: گوہر نذیر گیلانی

DW.COM