1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

ایران ایک ’غیر ذمہ دار ‘ ریاست نہیں، تہران حکومت 

ایران نے امریکی صدر کے گزشتہ ہفتے کے اُس بیان کو مسترد کر دیا ہے جس میں اُنہوں نے ایران کو ’سرکش‘ ریاست قرار دیا تھا۔ ایران کا کہنا ہے کہ خود متضاد امریکی پالیسیاں عالمی سلامتی کے لیے خطرہ ہیں۔

 ایرانی سرکاری نیوز ایجنسی ارنا نے ملکی وزارت خارجہ کے ترجمان بہرام قاسمی کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ امریکی صدر ٹرمپ کی من چاہی اور متضاد پالیسیاں حقیقت میں عالمی سکیورٹی کے لیے خطرہ ہیں۔ جمعرات کے روز ٹرمپ نے کہا تھا کہ ایران، شمالی کوریا اور شام جیسی سر کش ریاستیں اور ان کی مالی معاونت کرنے والے ملک سلامتی کے نئے خطرات کو جنم دے رہے ہیں۔ قاسمی کے مطابق ایران ایک ذمہ دار ریاست ہے اور قطعاً اسے ایک ’غیرذمہ دار، سرکش اور خود سر‘ ریاست کے زمرے میں نہیں لایا جا سکتا۔

امریکا اور ایران کے درمیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اقتدار میں آنے کے بعد سے کشیدگی بڑھ گئی ہے۔ ٹرمپ اکثر و بیشتر ایران پر عسکریت پسند گروپوں کی حمایت کا الزام عائد کرتے ہیں۔ دوسری جانب ایران نے امریکا کے اتحادی ملک سعودی عرب پر خطے میں عدم استحکام پیدا کرنے اور دہشت گردانہ حملے کرنے کے الزامات لگائے ہیں۔

Frankreich Nationalfeiertag in Paris | US-Präsident Donald Trump (Reuters/G. Fuentes)

امریکا اور ایران کے درمیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اقتدار میں آنے کے بعد سے کشیدگی بڑھ گئی ہے

 ایرانی حکومت گزشتہ ماہ تہران میں ہوئے حملوں کا ذمہ دار بھی سعودی عرب کو ٹھہراتی ہے جن میں اٹھارہ افراد ہلاک ہوئے تھے۔ تاہم سعودی عرب نے ایران کے اس الزام کی تردید کی ہے۔ ایسے میں جبکہ صدر ٹرمپ ایران پر اپنی تنقید جاری رکھے ہوئے ہیں، یہ امر بھی اہم ہے کہ جمعرات تیرہ جولائی کے روز ایک سینئیر امریکی عہدیدار نے کہا تھا کہ  اس بات کا قوی امکان ہے کہ تحفظات کے باوجود امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران کے ساتھ ہوئے جوہری معاہدے کی دوبارہ تصدیق کر دیں گے۔

 سرکاری اہلکار کا کہنا تھا کہ صدر ٹرمپ کسی وقت بھی جوہری معاہدے کے حوالے سے اپنا ذہن تبدیل کر سکتے ہیں۔ یاد رہے کہ امریکی صدر نے گزشتہ برس اپنی انتخابی مہم کے دوران ایرانی جوہری معاہدے پر سخت تنقید کی تھی۔ 

 

DW.COM

Audios and videos on the topic