1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

ایران ایٹمی توانائی ایجنسی سے تعاون پر آمادہ

آسٹریا میں عالمی ایٹمی توانائی ایجنسی IAEA کے سالانہ اجلاس کے دوران ایران کے ایٹمی توانائی سے متعلقہ امور کے نگران علی اکبر صالحی نے منگل کے روز اقوام متحدہ کے معائنہ کاروں کے ساتھ تعاون پر آمادگی ظاہر کردی۔

default

ویانا میں ایک ہفتہ تک جاری رہنے والے IAEA کے سالانہ اجلاس میں 150ریاستیں شرکت کر رہی ہیں۔ اس اجلاس میں ایران کے مغربی ممالک کے ساتھایٹمی تنازعے کے پس منظر میں منگل کو ہونے والے مذاکرات کے بارے میں زیادہ تفصیلات تو نہیں بتائی گئیں تاہم تہران نے معائنہ کاروں کے حوالے سے اپنے اب تک کے رویے میں نرمی کا اشارہ دیا ہے۔ دوسری جانب روسی صدر دیمتری میدویدیف کا کہنا ہے کہ ایران پر مزید پابندیاں عائد کرنے کے امکان کو رد نہیں کیا جاسکتا۔

ایتمی توانائی کے ایرانی ادارے کے سربراہ علی اکبر صالحی نے اس اجلاس کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا :"مستقبل میں بہتر اور گہرے تعلقات کو یقینی بنانے کے حوالے سے ہم ایک نئے سمجھوتے پر اتفاق میں کامیاب ہوگئے ہیں"۔ مزید تفصیلات بتانے سے انکار کرتے ہوئے صالحی کا کہنا تھا کہ ان کا اعلان مناسب وقت پر کیا جائے گا۔ انہوں نے یہ امید بھی ظاہر کی کہ IAEA کے ایران کے ساتھ تعلقات میں آئندہ بہتری دیکھنے میں آئے گی۔

Iran Uranaufbereitungsanlage in Isfahan

ایران میں یورینیم افزودگی کا ایک پلانٹ

گرشتہ ماہ ایران نے IAEA کا یہ مطالبہ تسلیم کرنے پر رضامندی ظاہر کی تھی کہ اس ادارے کو ناتنز میں یورینیم کی افزودگی کے پلانٹ کا جائزہ لینے کی اجازت دی جائے۔ IAEA کا یہ موقف رہا ہے کہ ایران کو نہ صرف اپنی اعلان کردہ ایٹمی تنصیبات بلکہ ان کے علاوہ دیگر علاقوں کا جائزہ لینے کی اجازت بھی دینا چاہیئے۔

دوسری جانب ایرانی ایٹمی پروگرام ہی کے حوالے سے روسی صدر دیمتری میدویدیف نے کہا ہے کہ تہران پر مزید پابندیاں عائد کی جاسکتی ہیں لیکن ساتھ ہی ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ایران کے ساتھ تنازعے کے حل کے لئے بین الاقوامی برادری کو بہت احتیاط سے کام لینا ہوگا۔ روسی صدر نے کہا: ’’پابندیاں عمومی طور پر موثر ثابت نہیں ہوتیں مگر بعض اوقات پابندیاں عائد کرنا پڑتی ہیں۔‘‘

اگرچہ ایران اور سلامتی کونسل کی مستقل رکن پانچ ریاستوں اور جرمنی پر مشتمل چھ کے گروپ کے درمیان مذاکرات یکم اکتوبر کو متوقع ہیں تاہم اس بات چیت کے لئے جگہ کا تعین ابھی تک نہیں کیا گیا۔ اس حوالے سے یورپی یونین کے خارجہ سیاسی امور کے نگران عہدیدار خاوئیر سولانا نے منگل کو کہا کہ ایران کے ساتھ ایٹمی تنازعے سے متعلق مذاکرات ترکی میں ہوسکتے ہیں۔

ان مذاکرات کے موضوعات کے حوالے سے ایرانی صدر محمود احمدی نژاد اپنے ایک حالیہ بیان میں پہلے ہی واضح کرچکے ہیں کہ تہران چھ کے گروپ کے ساتھ مکالمت پر تو رضامند ہے لیکن وہ اپنے ایٹمی پروگرام پر قطعی کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔

رپورٹ: میرا جمال

ادارت: مقبول ملک