1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

ایران ایئر کی تجدید: خلیجی حلیفوں کے لیے سگنل

طویل اقتصادی پابندیوں کے بعد ایران اپنی قومی ایئر لائن کی تجدید سے تہران کو مشرقی اور مغربی ممالک کے درمیان ممکنہ طویل مدتی ٹرانزٹ پوائنٹ بنانے کی کوشش کر رہا ہے۔

ایران نے27 ملین ڈالر کی سرمایہ کاری کر کے اپنی قومی ایئر لائن ’ایران ایئر‘ کو مضبوط اور دیگر علاقائی ایئر لائنز کے مقابلے میں لا کھڑا کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس سلسلے میں گزشتہ ماہ تہران حکومت کی طرف سے دنیا کے سب سے بڑے جیٹ لائنر ایئربس A380 کے انتخاب کا عمل دراصل خلیج فارس کی عرب ریاستوں کے لیے ایک سیاسی پیغام کے مترادف ہے کہ وہ اسلامی جمہوریہ ایران کی عالمی سطح پر تنہائی کے خاتمے اور تہران حکومت کی عالمی سیاسی بساط پر اہمیت کو نظر انداز نہ کریں۔

تجزیہ کاروں کے مطابق ایران مشرق اورمغرب کے درمیان ممکنہ طویل مدتی ٹرانزٹ پوائنٹ کے طور پر اپنی پوزیشننگ کی کوشش کر رہا ہے خاص طور سے وہ اپنے علاقائی حریفوں جیسے کے دُبئی کا مقابلہ کرتے ہوئے تہران کو مرکزی ٹرانزٹ پوائنٹ بنانے کی کوشش کر رہا ہے۔

ایران کے وزیر ٹرانسپورٹ عباس آخونی نے ایک انٹر ویو میں کہا،’’یقیناً یہ ہماری تاریخی پوزیشن ہے۔‘‘

ایران کی طرف سے اپنی ایئر لائن کو مضبوط اور وسیع تر بنانے کی حکمت عملی کا تعلق دراصل خلیجی حلیفوں کی نقل و حمل کی صنعت کی عالمگیریت کا مقابلہ کرنے سے بھی تعبیر کیا گیا ہے۔

Mahan Air Direktflug Teheran Sanaa

ایران کو اپنی اندرون ملک پروازوں کے نظام کو بھی بہتر کرنا ہوگا

ایران ایئرکے چیئرمین فرھاد پرواریش نے نیوز ایجنسی روئٹرز کو انٹر ویو دیتے ہوئے کہا،’’کسی زمانے میں ہم علاقائی اور عالمی سطح پر بہت اہم کردار ادا کر رہے تھے۔ ہم یقیناً دوبارہ اپنا ویسا ہی بھرپور کردار ادا کرنا چاہتے ہیں۔‘‘

ایران نے 118 ایئر بس جیٹ طیاروں کے معاہدے کے علاوہ تہران کے مرکزی ایئرپورٹ کی توسیع کی ایک ہم ڈیل پر بھی دستخط کر دیے ہیں۔ یہ معاہدے ایرانی صدر حسن روحانی کے حالیہ یورپی دورے کے دوران طے پائے۔ ایرانی صدر نے اپنے ملک پر ایک طویل عرصے سے لگی اقتصادی پابندیاں ختم ہونے کے دو ہفتوں کے اندر اندر یورپی ملکوں اٹلی اور فرانس کے دورے کیے۔

خلیج کی عرب ریاستوں کی ایئرلائنز آج کل طویل مسافت طے کرنے والے مسافروں کے لیے روٹ فراہم کرنے کے ضمن میں عالمی سطح پر چھائی ہوئی ہیں۔ دنیا کی کُل آبادی کے دو تہائی کے لیے دُبئی ایئرپورٹ ایک ایسا مرکزی ہوائی اڈہ ہے جس کے ذریعے وہ 4 سے 8 گھنٹوں کے اندر کسی منزل تک پہنچ سکتے ہیں۔ دبُئی ایئرپورٹ دنیا کی ہیوی ویٹ ایئر لائنز میں سے ایک امارات کا مر کز ہے۔

Laurent Fabius Frankreich Iran Präsident Hassan Rouhani

ایرانی صدر نے حال ہی میں اٹلی اور فرانس کا دورہ کیا

ایران کو اپنی ایئر لائنز کو خلیجی ایئر لائنز کے مقابلے میں لانے کی آرزو پوری کرنے کے لیے تاہم ابھی بہت کچھ کرنا ہوگا۔ مثال کے طور پر سب سے پہلے اپنی داخلہ پروازوں کے نیٹ ورک کو دوبارہ سے بہتر خطوط پر استوار کرنا ہوگا اور اپنے ملک میں سیاحت اور بزنس ٹریفک کی کیٹرنگ کو بین الاقوامی معیار کے مطابق بنانا ہوگا۔

ایران ایئرکے چیئرمین فرھاد پرواریش کے بقول،’’A380 طیارے مزید آئندہ پانچ برسوں تک ہمارے ہوائی اڈوں پر نہیں اُتریں گے۔ ایسا ممکن بنانے کے لیے ہمیں پہلے امام خمینی انٹر نیشنل ایئر پورٹ کی توسیع کرنا ہوگی۔‘‘

DW.COM