1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

ایران اپنے دفاع کا حق رکھتا ہے: ایرانی وزیر خارجہ

ایرانی وزیر خارجہ جواد ظریف کا کہنا ہے کہ کوئی اُن کے ملک پر حملہ کرے گا تو اُسے جوابی کارروائی کا سامنا کرنا پڑے گا۔ ایرانی وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ ایران اپنے دفاع کا حق رکھتا ہے۔

default

ایرانی وزیر خارجہ محمد جواد ظریف

ایران کے وزیر خارجہ محمد جواد ظریف نیوزی لینڈ کے دورے پر ہیں۔ انہوں نے نیوزی لینڈ انسٹیٹیوٹ برائے بین الاقوامی امور میں خطاب کے بعد شرکاء کے سوالات کا جواب دیتے ہوئے واضح کیا کہ ایران اپنے دفاع کا حق رکھتا ہے اور اگر کوئی اتنا پاگل ہوا کو وہ ایران پر حملہ کرے تو اُس کو روایتی ہتھیاروں کے ساتھ مؤثر جواب دیا جائے گا۔ ظریف کا مزید کہنا تھا کہ انہیں یقین ہے کہ ایران کو روایتی ہتھیار استعمال کرنے کی ضرورت پیش نہیں آئے گی کیونکہ اُن کے ملک کا یقین ہے کہ جنگ میں سراسر نقصان ہوتا ہے۔

ظریف نے ان خیالات کا اظہار گزشتہ ہفتے ایرانی پاسدارانِ انقلاب کے دستوں کی جانب سے بیلاسٹک میزائلوں کے تجربات کے تناظر میں کیا۔ ان تجربات کے بعد تہران حکومت نے واضح کیا کہ وہ اپنے بیلاسٹک میزائل پروگرام کو مزید توسیع دینے کا ارادہ رکھتی ہے۔ دوسری جانب امریکا نے اِن تجربات پر تشویش کا اظہار کیا ہے اور اسی طرح یورپی ملک فرانس کے وزیر خارجہ نے بھی تحفظات و خدشات بیان کرتے ہوئے کہا کہ یورپی یونین کی جانب سے ایران کو امکاناً پابندیوں کا سامنا ہو سکتا ہے۔

Iran Abschuss Cruise missile Qader

ایران نے بیلاسٹک میزائل کو روایتی ہتھیارسازی سے تعبیر کیا ہے

ایرانی وزیر خارجہ سے جب پوچھا گیا کہ میزائلوں پر اسرائیل مخالف عبارت درج تھی تو ان کا کہنا تھا کہ وہ اپنے ملک سے باہر ہیں اور جب وہ واپس پہنچیں گے تو اِن رپورٹوں بارے معلومات حاصل کر کے کچھ کہہ سکیں گے۔ ایرانی نیوز ایجنسی فارس کے مطابق میزائلوں پر درج تھا کہ ’اسرائیل کا صفایا ہونا ضروری ہے‘۔ اس مناسبت سے حاضرین کے مسلسل سوالات کے جواب میں ایرانی وزیر خارجہ نے کہا کہ اسرائیلی وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو اور امریکی صدر باراک اوباما نے اِس صورت حال میں جارحانہ رویہ اپنا رکھا ہے۔

نیوزی لینڈ انسٹیٹیوٹ فار انٹرنیشنل افیئرز میں محمد جواد ظریف نے کہا کہ شرکاء نیتن یاہو سے پوچھیں کہ وہ ایران کے خلاف ہتھیار استعمال کرنے کی دھمکی کیوں دیتے ہیں اور اسی طرح امریکی صدر اوباما بھی آئے روز اُن کے ملک کے خلاف ہتھیار استعمال کرنے کی بات کرتے ہیں۔ ظریف نے یہ بھی واضح کیا کہ اُن کا ملک آسٹریلیا سے ایرانی مہاجرین کی رضاکارانہ واپسی کے لیے تیار نہیں ہے۔ اِس مناسبت سے ایران نے آسٹریلیا کی اُن امیدوں پر پانی پھیر دیا ہے جن کے تحت وہ تہران حکومت کے ساتھ ایک ڈیل طے کر کے ہزاروں ایرانیوں کو واپس بھیجنا چاہتا ہے۔ ظریف نے واضح کیا کہ کسی مجرم کو ایران قبول نہیں کرے گا۔

نیوزی لینڈ کے دورے کے موقع پر جواد ظریف نے وزیراعظم جان کی کے ساتھ ملاقات کرتے ہوئے دوطرفہ تجارتی امور پر بات چیت کی۔ ایرانی وزیر خارجہ کل منگل کے روز نیوزی لینڈ کا دورہ مکمل کرتے ہوئے آسٹریلیا کے لیے روانہ ہو جائیں گے۔