1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

ایران اپنا نو ٹن افزودہ یورینیم عنقریب روس بھیج دے گا

ایران اپنی ایٹمی تنصیبات میں افزودہ کیا گیا قریب نو ٹن یورینیم آئندہ چند روز میں روس کو برآمد کر دے گا۔ اس برآمد کا مقصد ملکی جوہری پروگرام میں اس حد تک کمی لانا ہے کہ تہران کے خلاف عائد پابندیاں ختم کی جا سکیں۔

دبئی سے انیس دسمبر کو موصولہ نیوز ایجنسی روئٹرز کی رپورٹوں کے مطابق یہ بات ایران کے ایٹمی پروگرام کے سربراہ نے آج ہفتے کے روز بتائی۔ ایران کے سرکاری خبر رساں ادارے اِرنا کے مطابق ملکی جوہری پروگرام کے سربراہ علی اکبر صالحی نے کہا، ’’اگلے چند دنوں میں ایران اپنا قریب نو ٹن افزودہ یورینیم روس کو برآمد کر دے گا۔‘‘

DW.COM


انہوں نے کہا کہ ایسا اس لیے کیا جائے گا کہ ملکی جوہری پروگرام کے دائرہ کار میں کمی لاتے ہوئے تہران کے خلاف عائد بین الاقوامی پابندیوں کے خاتمے کی راہ ہموار کی جا سکے۔

ایران اور چھ عالمی طاقتوں کے درمیان اس سال جولائی میں تہران کے متنازعہ جوہری پروگرام سے متعلق جو حتمی معاہدہ طے پایا تھا، اس کی ایک مرکزی شق یہ تھی کہ ایران اپنی جوہری تنصیبات میں افزودہ کیے گئے اس یورینیم کے ذخائر میں واضح کمی کرے گا، جو جوہری ہتھیاروں کی تیاری کے لیے استعمال ہو سکتا ہے۔

اس معاہدے کی شرائط کے مطابق تہران کو آئندہ اپنے پاس صرف 300 کلوگرام یا 660 پاؤنڈ تک افزودہ یورینیم رکھنے کا حق حاصل ہو گا اور اسے اپنی جوہری تنصیبات میں ان سینٹری فیوج مشینوں کی تعداد میں بھی واضح کمی کرنا ہو گی، جنہیں یورینیم کی افزودگی کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔

اس کے علاوہ تہران حکومت کو ملکی جوہری تنصیبات میں سے ایک میں بھاری پانی تیار کرنے والا ایک ری ایکٹر بھی زیادہ تر بند کرنا ہو گا تاکہ اس کے ذریعے وہ پلوٹونیم بھی تیار نہ کیا جا سکے، جسے تباہ کن بم بنانے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔

روئٹرز نے لکھا ہے کہ جب اقوام متحدہ کی طرف سے ان جملہ ایرانی اقدامات کی تکمیل کی تصدیق کر دی جائے گی، تو تہران کے خلاف وہ بین الاقوامی پابندیاں بھی اٹھائی جا سکیں گی، جن کے بعد ایران کو اپنی خستہ حال معیشت بہتر بنانے کے لیے کئی سال بعد عالمی منڈیوں تک ایک بار پھر رسائی حاصل ہو جائے گی۔

اس پس منظر میں علی اکبر صالحی نے آج کہا، ’’جو تقریباﹰ نو ٹن افزودہ ایرانی یورینیم ہم اگلے چند دنوں میں روس بھیج دیں گے، وہ اس ایٹمی مادے کی وہی مقدار ہے، جو اگر ہمارے موجود ذخائر میں سے کم ہو گئی، تو ہم اپنے یورینیم کے ذخائر کی بہت کم اور عالمی برادری کی مطلوبہ سطح تک پہنچ جائیں گے۔‘‘

Iran Teheran Rede Hassan Rohani

صدر حسن روحانی کی کوشش ہے کہ فروری میں انتخابات سے پہلے ایران کے خلاف عائد عالمی پابندیاں اٹھا لی جائیں

ایرانی صدر حسن روحانی کی کوشش ہے کہ تہران کے خلاف عائد عالمی پابندیان اگلے مہینے جنوری کے آخر تک اٹھا لی جانا چاہییں۔ اس طرح 26 فروری کو ہونے والے ایرانی پارلیمان اور مجلس خبرگان رہبری نامی کونسل کے لیے ہونے والے انتخابات میں حکومتی امیدواروں کی کامیابی کے امکانات بہتر ہو جائیں گے۔ مجلس خبرگان رہبری وہ ایرانی ادارہ ہے، جس کے ارکان ملکی سپریم لیڈر کا انتخاب کرتے ہیں۔

80 ملین کی آبادی والے ایران کی داخلی منڈی میں سالہا سال کے تعطل کے بعد اپنی جگہ بنانے کے لیے اس وقت کئی بڑے ملک اور ان کے ملٹی نیشنل پیداواری، کاروباری اور صنعتی ادارے اپنی پوری کوششیں کر رہے ہیں۔

ابھی بدھ سترہ دسمبر کے روز ہی ویانا میں بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی میں ایرانی مندوب نے کہا تھا کہ تہران آئندہ دو تین ہفتوں میں وہ تمام اقدامات مکمل کر لے گا، جو عالمی پابندیوں کے خاتمے کے لیے لازمی ہیں۔

اسی طرح ایٹمی توانائی کے بین الاقوامی ادارے آئی اے ای اے کے سربراہ یوکیا امانو بھی، جو ایرانی ایٹمی پروگرام کے حوالے سے کیے جانے والے نئے اقدامات کی تصدیق کے ذمے دار ہیں، ایک حالیہ انٹرویو میں کہہ چکے ہیں کہ یہ ’ناممکن نہیں‘ کہ ایران کے خلاف عالمی پابندیاں جنوری میں ہی اٹھا لی جائیں۔