1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

ایران اور یورپ کا بڑھتا اشتراکِ عمل، یورپی وفد کا دورہ

یورپی کمیشن کا ایک سات رکنی وفد خارجہ امور کی سربراہ فیدیریکا موگیرینی کی قیادت میں ایران کے دورے پر روانہ ہونے والا ہے۔ اس دورے میں یہ جائزہ لیا جائے گا کہ آئندہ کن شعبوں میں ایران اور برسلز قریبی تعاون کر سکتے ہیں۔

Federica Mogherini und Mohammad Javad Zarif Iran

یورپی یونین کی خارجہ امور کی سربراہ فیدیریکا موگیرینی اور ایرانی وزیر خارجہ جواد ظریف اقوام متحدہ کے ایک اجلاس کے موقع پر

آئندہ وِیک اَینڈ پر اپنے سفر پر روانہ ہونے والا وفد ایران کے ساتھ ایٹمی سمجھوتے کے بعد سے تہران جانے والا سب سے بڑا اور سرکردہ ترین ارکان پر مشتمل یورپی وفد ہے، جس میں خارجہ امور کی سربراہ فیدیرکا موگیرینی کے ساتھ ساتھ چھ مزید شعبوں کے یورپی کمشنر بھی شامل ہیں۔ اس دورے کا مقصد ایران اور یورپی ممالک کے درمیان تعلقات کو معمول پر لانا ہے۔ بتایا گیا ہے کہ ایران اور یورپ تجارت، توانائی، ماحولیات اور تعلیم کے ساتھ ساتھ سائنس کے شعبے میں بھی ایک دوسرے کے ساتھ قریبی تعاون کر سکتے ہیں۔

تہران کی آزاد یونیورسٹی کے اصلاح پسند ماہرِ سیاسیات صادق زیبا کلام کے مطابق ایران اور مغربی دنیا کے درمیان تعاون کے وسیع تر امکانات موجود ہیں، خاص طور پر معیشت کے شعبے میں۔ وہ کہتے ہیں کہ گزشتہ سال طے ہونے والے سمجھوتے کے بعد سے ایران کے خلاف عائد پابندیاں جزوی طور پر ختم بھی کی جا چکی ہیں لیکن ابھی تک نہ تو ایران کے توانائی کے اہم شعبے میں کوئی نمایاں سرمایہ کاری دیکھنے میں آئی ہے اور نہ ہی مواصلات یا پیٹروکیمیکلز کے شعبے میں۔

Iran Erdölindustrie

ایران کو غیر ملکی سرمایہ کاری کی اشد ضرورت ہے اور پیسے سے زیادہ ضرورت ٹیکنالوجی کی ہے

صادق زیبا کلام کے مطابق ایران کو غیر ملکی سرمایہ کاری کی اشد ضرورت ہے اور پیسے سے زیادہ ضرورت ٹیکنالوجی کی ہے۔ اُن کے خیال میں سرمایہ کاری کی راہ میں حائل رکاوٹوں میں سے ایک یہ ہے کہ ایرانی معیشت پر ریاستی کنٹرول بہت زیادہ ہے۔ پھر ایرانی عدلیہ بھی پوری طرح سے آزاد نہیں ہے اور یہ بات بھی زیبا کلام کے مطابق غیر ملکی سرمایہ کاروں کو ایران میں پیسہ لگانے سے روکتی ہے۔ زیبا کلام کا کہنا ہے کہ ایران میں بدعنوانی بھی زوروں پر ہے اور سیاسی فضا میں بھی بے یقینی کی کیفیت ہے: ’’ایران کی اعتدال پسند قوتیں مغربی دنیا کے ساتھ زیادہ قریبی تعاون پر اصرار کرتی ہیں جبکہ سخت گیر قوتیں تعلقات کے معمول پر آنے کی ہر کوشش کو روکنے کی کوشش کرتی ہیں۔‘‘

یورپی وفد کا یہ دورہ ایک ایسے نازک وقت پر عمل میں آ رہا ہے، جب تہران اور برسلز کے درمیان خصوصاً شام کے حوالے سے کافی زیادہ اختلافات ہیں۔ ایران اسد حکومت کا حامی ہے جبکہ یورپی یونین کا موقف یہ ہے کہ اسد کے ہوتے ہوئے شامی جنگ کا کوئی حل ممکن نہیں ہے۔

Symbolbild Amnesty International Hinrichtungen von Kindern im Iran

ایران اور مغربی دنیا کے درمیان ایک اور اختلافی موضوع ایران میں انسانی حقوق کی صورتِ حال ہے، وہاں بہت بڑی تعداد میں موت کی سزائیں دی جاتی ہیں

یورپی وفد کے دورے کے دوران مارچ کے اوائل میں ایران کی جانب سے کیا جانے والا میزائل کا وہ تجربہ بھی زیرِ بحث آئے گا، جس کے فوراً بعد جرمنی، فرانس اور برطانیہ کی صورت میں یورپی یونین کے تین ملکوں نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کو ایک خط تحریر کیا تھا۔ اگرچہ اس خط میں یہ کہا گیا تھا کہ یہ تجربہ ایٹمی ڈیل کی خلاف ورزی ہے اور فیدیریکا موگیرینی اس موقف کو مسترد کر چکی ہیں لیکن اس کے باوجود اس موضوع نے دونوں جانب اعتماد کی فضا کو مجروح کیا ہے۔

ایک اور اختلافی موضوع ایران میں انسانی حقوق کی صورتِ حال ہے۔ وہاں بہت بڑی تعداد میں موت کی سزائیں دی جاتی ہیں۔ اس تناظر میں یورپی وفد کی کوشش ہو گی کہ ایران کے ساتھ دَس سال پہلے کی انسانی حقوق کے حوالے سے ہونے والی اُس مکالمت کو پھر سے بحال کیا جائے، جو برسوں سے معطل چلی آ رہی ہے۔

DW.COM