1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

ایران اور چین، باہمی تجارت 600 بلین تک پہنچانے پر متفق

چينی اور ايرانی اعلیٰ قيادت نے دونوں ممالک کے باہمی تعلقات کو وسعت دينے اور آئندہ دس برس ميں باہمی تجارت کو 600 بلين ڈالر تک پہنچانے پر اتفاق کر ليا ہے۔ يہ پيش رفت چينی صدر شی جن پنگ کے دورہ تہران کے موقع پر ہوئی ہے۔

چین کے صدر شی جِن پنگ سعودی عرب اور مصر کا دورہ مکمل کرنے کے بعد آج ہفتہ 23 جنوری کو ایرانی دارالحکومت تہران پہنچے۔ شی جن پنگ نے اپنے ایرانی ہم منصب حسن روحانی سے ملاقات کی۔ اِس ملاقات میں جوہری ڈیل کے مؤثر ہونے پر امریکی اور مغربی اقتصادی پابندیوں کے خاتمے کے تناظر میں چین اور ایران کے درمیان مستقبل کے معاشی تعلقات پر توجہ دی گئی۔

ملاقات کے بعد ايرانی صدر حسن روحانی نے چينی صدر شی جن پنگ کے ہمراہ ايک مشترکہ پريس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے بتايا، ’’ايران اور چين اس بات پر متفق ہيں کہ آئندہ دس سالوں ميں دونوں ممالک کے درميان باہمی تجارت کے حجم کو چھ سو بلين ڈالر تک پہنچايا جائے گا۔‘‘ دونوں صدور کی پريس کانفرنس ايرانی ٹيلی وژن پر براہ راست نشر کی گئی۔ روحانی کا اس موقع پر مزید کہنا تھا، ’’ایران اور چین نے اسٹریٹیجک تعلقات کو فروغ دینے پر بھی اتفاق کیا ہے۔‘‘

چین کی سرکاری نیوز ایجنسی شنہوا کے مطابق شی جن پنگ کا کہنا تھا، ’’چین اور ایران کے تعلقات بین الاقوامی منظر نامے کے نشیب و فراز کی کسوٹی پر پورے اترے ہیں۔‘‘ ان کا مزید کہنا تھا کہ بیجنگ حکومت ایران کے ساتھ پائیدار تعلقات کی بنیاد پر دو طرفہ رابطوں کو بہتر بنانا چاہتی ہے۔

بیجنگ حکومت ایران کے ساتھ پائیدار تعلقات کی بنیاد پر دو طرفہ رابطوں کو بہتر بنانا چاہتی ہے، شی جِن پِنگ

بیجنگ حکومت ایران کے ساتھ پائیدار تعلقات کی بنیاد پر دو طرفہ رابطوں کو بہتر بنانا چاہتی ہے، شی جِن پِنگ

ایران اور عالمی طاقتوں کے درمیان جوہری معاہدہ طے ہونے کے بعد شی جِن پِنگ سلامتی کونسل کے پانچ مستقل رکن ممالک کے رہنماؤں میں سے وہ دوسرے رہنما ہیں، جنہوں نے ایران کا دورہ کیا ہے۔ اس سے قبل روسی صدر ولادیمیر پوٹن نے گزشتہ برس نومبر میں تہران کا دورہ کیا تھا۔

ایران کے خلاف قریب ایک دہائی سے جاری بین الاقوامی پابندیوں کا خاتمہ اسی ماہ ہوا ہے۔ یہ پابندیاں بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی کی طرف سے حال ہی ميں پیش کی گئی اس رپورٹ کے بعد اٹھائی گئیں جس میں تصدیق کی گئی تھی کہ ایران نے معاہدے کے تحت اپنی جوہری سرگرمیاں کم کر دی ہیں۔

چینی صدر کے دورے کے موقع پر آج ہفتے ہی کے روز دونوں ملکوں کے درميان سترہ مختلف معاہدوں پر بھی دستخط کيے گئے۔ ان معاہدوں ميں ايٹمی توانائی کے شعبے ميں اضافی تعاون اور ’ون بيلٹ، ون روڈ‘ کے نام سے جانے جانے والے ’سلک روڈ‘ کے قديم ٹريڈ روٹ کی بحالی شامل ہيں۔

چینی صدر آج ہی ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کے ساتھ بھی ملاقات کر رہے ہیں۔