1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

ایران اور مشرقِ وُسطےٰ کے حوالے سے تازہ امریکی پالیسیاں

چہار فریقی گروپ برائے مشرقِ وُسطےٰ میں اپنے دیگر ساتھیوں کے ساتھ مل کر امریکہ نے فلسطینیوں کو محدود مدت کے لئے ایسی انسانی امداد فراہم کرنے پر رضامندی ظاہر کر دی، جو حماس حکومت کے ہاتھوں میں دئے بغیر فلسطینی آبادی کی مشکلات کو کم کرنے پر خرچ کی جائے گی۔ اِسی طرح ایران کے معاملے میں امریکہ نے برطانیہ، فرانس اور جرمنی پر مشتمل سہ قومی گروپ کو ایران کیلئے ایک ایسی نئی تجویز تیار کرنے کا کام سونپا ہے، جس کی مدد سے ایر

default

ان کو اپنا متنازعہ ایٹمی پروگرام بند کرنے کی ترغیب دی جائے گی۔ اِن دونوں معاملات میں امریکہ نے مسائل کو سفارتی ذرائع سے حل کرنے کی کوشش کی ہے اور اپنی پالیسیوں کے حوالے سے یورپی ممالک کے کچھ قریب چلا آیا ہے۔ اِس بارے میں واشنگٹن سے Daniel Scheschkewitz کا تبصرہ۔

عراق کے حوالے سے دُنیا کو جو بھی تجربات ہوئے ہیں، اُن کے پیشِ نظر کسی کو بھی جورج ڈبلیو بُش کی حکومت کے آئندہ اقدامات پر کوئی اعتبار نہیں رہا۔ اُن کا خیال ہے کہ شاید ایران کیلئے نئی مذاکراتی پیشکش پر رضامندی بھی امریکہ کی کوئی نئی چال ہی ہو گی۔ اور یہ کہ شاید سفارتکاری کے پردے کے پیچھے امریکہ ایران کے خلاف اپنے اُس فوجی حملے کی تیاریاں جاری رکھے گا، جو وہ تمام سفارتی کوششیں ناکام ہو جانے کی صورت میں کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔

یہ تو صحیح ہے کہ امریکہ فوجی حل کو اصولی طور پر کبھی بھی خارج از امکان قرار نہیں دے گا، لیکن امریکہ کے تازہ اقدامات اورپالیسیوں پر تنقید کرنےوالے کچھ حقائق کو بہرحال نظر انداز کر جاتے ہیں۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ ایران عراق نہیں ہے اورعراق کی مہم جوئی کے بعد امریکی خارجہ سیاست کے امکانات کا دائرہ کافی حدتک محدود ہو کر رہ گیا ہے۔

دوسری بات یہ ہے کہ امریکہ کو وسیع البنیاد بین الاقوامی اتحاد کی قدر و قیمت کا بھی احساس ہو گیا ہے۔

تیسری بات یہ ہے کہ خود امریکہ کے اندر داخلی سیاسی حقائق بھی بالکل بدل چکے ہیں۔ آج کل ایران کے خلاف کسی فوجی حملے کے لئے بُش کو نہ تو امریکی کانگریس کی سیاسی حمایت حاصل ہے اور نہ ہی امریکی رائے عامہ کی۔ عوامی جائزوں میں بُش کےلئے حمایت کا گراف بالکل نیچے آن گرا ہے، کیونکہ امریکی عوام کی اکثریت نے عراق کی پیچیدہ صورتِ حال سے درست نتائج اخَذ کئے ہیں۔ حالانکہ عراق کے بڑے پیمانے پر ہلاکت خیز ہتھیاروں کی دسترس میں ہونے کے مقابلے میں ایران کے ایٹمی ہتھیاروں کی دسترس میں آ جانے کے خدشات کی بنیادیں کہیں زیادہ ٹھوس ہیں۔

بُش حکومت اِس بات کا اعتراف تو نہیں کرتی لیکن جانتی ضرور ہے کہ اُس کی پالیسیوں پر اب کسی کو بھی اعتبار نہیں رہا۔ اِسی لئے ایران کے معاملے میں ایک بار پھر مذاکرات کی راہ اپنانے کی بات کی جا رہی ہے۔ امریکہ جانتا ہے کہ ایران اپنے ایٹمی پروگرم سے دستبردار ہونے پر تیار ہوا بھی تو بھاری مراعات لینے کے بعد ہی ہو گا۔

امریکہ آج کل کے حالات میں بین الاقوامی برادری کی صفوں میں انتشار کا متحمل نہیں ہو سکتا اور اِسی لئے اُس نے یورپی ممالک، روس اور چین کے سفارتی دباﺅ کے آگے ہتھیار ڈال دئے ہیں۔

امریکہ جانتا ہے کہ ایران کے خلاف اُس کے محدود فوجی حملے کے خطرات بہت ہی زیادہ ہیں اور اِس مہم میں اُس کا ساتھ دینے والے ممالک کی دُور دُور تک کوئی جھلک نظر نہیں آ رہی۔

اِنہی وجوہات کی بناء پر تین مہینے تک کےلئے فلسطینیوں کو انسانی امداد دینے پر بھی رضامندی ظاہر کر دی گئی ہے۔ بلکہ ایسا کرنے کےلئے امریکہ نے اُس چہار فریقی گروپ برائے مشرقِ وُسطےٰ کو بھی پھر سے ایک میز پر جمع کر لیا، جس کے بارے میں یہ کہا جا رہا تھا کہ وہ اپنی موت آپ مر چکا ہے۔

شیشکے وِٹس کے مطابق ایران کے معاملے میں امریکہ کو بالآخر براہِ راست مذاکرات میں شریک ہونا پڑے گا۔ شمالی کوریا کے معاملے میں جاری چَھ فریقی مذاکرات اِس سلسلے میں ایک مثال بن سکتے ہیں۔ اگر مبینہ طور پر شمالی کوریا کی طرح ایران کے پاس بھی ایٹم بم ہوتا تو امریکہ کب کا مذاکرات شروع بھی کر چکا ہوتا۔