1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

ایران اور لبنان میں سی آئی اے کے ایجنٹ گرفتار، امریکی حکام کا اعتراف

امریکی حکام نے تسلیم کیا ہے کہ لبنان میں شیعہ ملیشیا حزب اللہ اور ایرانی انٹیلی جنس نے اپنی صفوں میں ایسے مخبروں کا سراغ لگا کر انہیں گرفتار کر لیا ہے، جو امریکی خفیہ ادارے سی آئی اے کے لیے کام کر رہے تھے۔

default

بعض سابق امریکی عہدیداروں نے کہا ہے کہ سی آئی اے کے لیے جاسوسی کرنے والے افراد امریکی شہریوں کی بجائے مقامی بھرتی کیے ہوئے افراد تھے اور وہ لاپرواہی کے باعث آشکار ہو گئے۔ سی آئی اے کے سابق آپریشنز افسر اور جاسوسی کی خفیہ دنیا سے متعلق کئی کتابوں کے مصنف بوب بائر کا کہنا ہے کہ حزب اللہ کی انٹیلی جنس کا توڑ کرنے والی صلاحیتیں انتہائی اعلٰی درجے کی ہیں اور ان کا غلط تخمینہ نہیں لگانا چاہیے۔ انہوں نے کہا، ’’حزب اللہ کی سکیورٹی اتنی ہی بہترین ہے، جتنی دنیا میں کسی کی ہو سکتی ہے۔ یہ سابق سوویت یونین کی خفیہ ایجنسی کے جی بی سے بھی بہتر ہے۔‘‘

لبنان کی 1990-1975 کی خانہ جنگی کے دوران ایرانی مدد سے قائم ہونے والی حزب اللہ ملک کی انتہائی طاقتور سیاسی اور فوجی فورس بن چکی ہے اور رواں برس جون میں قائم ہونے والی حکومت میں اس کے اتحادیوں کا غلبہ ہے۔ امریکہ نے حزب اللہ کو دہشت گرد تنظیم قرار دے رکھا ہے۔

اگرچہ امریکی حکام نے سی آئی اے کے دونوں ملکوں میں ہونے والے نقصانات کے بارے میں زیادہ تفصیلات نہیں بتائیں مگر ان کا یہ کہنا تھا کہ امریکی انٹیلی جنس کو پہنچنے والا نقصان اتنا سنگین ضرور ہے کہ اس کے بارے میں کانگریس کی نگرانی کی کمیٹیوں کے اجلاس ہوئے ہیں۔

NO FLASH Hisbollah Führer Hassan Nasrallah

جون میں حزب اللہ کے رہنما شیخ حسن نصر اللہ نے کہا تھا کہ ان کی تنظیم کے دو اراکین کو سی آئی اے کے ساتھ تعلق کے شبے میں گرفتار کر لیا گیا تھا

حزب اللہ اور ایران دونوں ہی امریکہ کی خفیہ ایجنسیوں اور وائٹ ہاؤس کے لیے دلچسپی کے اہم اہداف ہیں۔ سی آئی اے نے حالیہ پیشرفتوں پر تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا ہے۔ تاہم امریکی حکام نے لاس اینجلیس ٹائمز میں شائع ہونے والی اس خبر کی تردید کی ہے کہ حزب اللہ کی کارروائی کی وجہ سے لبنان میں سی آئی اے کی کارروائیو‌ں کو سخت دھچکا لگا ہے۔

ایک امریکی اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر خبر رساں ادارے روئٹرز کو بتایا کہ جاسوسی ایک خطرناک میدان ہے۔ اپنے حریفوں کے بارے میں خفیہ معلومات حاصل کرنے کی کوششیں کرنا، جب وہ اپنے درمیان جاسوسوں کا کھوج لگانے کی بھی کوششیں کر رہے ہوں خطرے سے خالی نہیں ہوتا۔

Spion Auge Schlüsselloch

ایک امریکی اہلکار کے مطابق جاسوسی ایک خطرناک میدان ہے

رواں سال کے اوائل میں حزب اللہ اور ایران دونوں نے اس بات کا اعلان کیا تھا کہ ان کی سکیورٹی اور انٹیلی جنس کا توڑ کرنے والی فورسز نے سی آئی اے کے مخبروں کا کھوج لگانے میں کامیابی حاصل کی ہے۔ جون میں حزب اللہ کے رہنما شیخ حسن نصر اللہ نے کہا تھا کہ ان کی تنظیم کے دو اراکین کو سی آئی اے کے ساتھ تعلق کے شبے میں گرفتار کر لیا گیا تھا جبکہ ایک تیسرا شخص یورپی یا اسرائیلی انٹیلی جنس ایجنسیوں کے لیے کام کر رہا تھا۔ مئی میں ایران کے انٹیلی جنس وزیر نے بھی دعوٰی کیا تھا کہ امریکہ اور اسرائیل کے دو درجن سے زائد جاسوسوں کو گرفتار کیا گیا ہے۔

سابق امریکی اہلکار کے بقول حزب اللہ مشرق وسطیٰ اور بحیرہ روم کے ملکوں میں امریکی سفارت خانوں میں بھی مختلف حیلوں بہانوں سے اپنے جاسوسوں کو داخل کرتی ہے تاکہ امریکی اہداف پر حملوں کی منصوبہ بندی کرنے میں آسانی ہو۔

رپورٹ: حماد کیانی / خبر رساں ادارے

ادارت: عاطف بلوچ

DW.COM