1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

ایران اور سعودی عرب کشیدگی کم کریں، ایرانی نائب وزیر خارجہ

ایرانی نائب وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ سعودی عرب اور ایران کو حالیہ ہفتوں کے دوران شدت اختیار کر جانے والی آپس کی کشیدگی کو کم کرنے کے لیے بلاتاخیر اور ہر ممکن اقدامات کرنے چاہییں۔

ایرانی دارالحکومت سے پیر پچیس جنوری کو موصولہ نیوز ایجنسی روئٹرز کی رپورٹوں کے مطابق عباس عراقچی نے آج تہران میں ایک ہوا بازی کانفرنس کے موقع پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایرانی حکومت ہر وہ ممکنہ قدم اٹھانے پر تیار ہے، جس کے ذریعے خطے کو زیادہ مستحکم اور محفوظ تر بنایا جا سکے۔

ایرانی نائب وزیر خارجہ نے کہا کہ تہران اور ریاض کے مابین کشیدگی کم کرنے سے دہشت گردی اور فرقہ واریت جیسے ان بڑے مسائل اور اہم چیلنجز کا مقابلہ کرنے میں مدد ملے گی، جن کا خطے کو اس وقت سامنا ہے۔ عباس عراقچی نے کہا کہ فرقہ واریت دراصل وہ سب سے بڑا خطرہ ہے، جو فی زمانہ مشرق وسطیٰ اور خلیج کے خطے کی ریاستوں کو درپیش ہے۔
اس موقع پر عباس عراقچی نے صحافیوں کو بتایا کہ انتہا پسندانہ نظریات کے حامل دہشت گرد عناصر کے خلاف کامیاب جنگ اس لیے انتہائی ضروری ہے کہ یہ دہشت گرد پوری دنیا کے لیے خطرہ بنے ہوئے ہیں۔
ایران اور سعودی عرب خطے کی دو حریف ریاستیں ہیں، جن کے مابین تعلقات گ‍زشتہ ماہ اس وقت انتہائی کشیدہ ہو گئے تھے، جب سعودی عرب میں ایک اہم شیعہ رہنما آیت اللہ النمر کو دہشت گردی کے الزام میں سزائے موت دے دی گئی تھی۔
النمر کو سزائے موت دیے جانے کے بعد مشتعل ایرانی مظاہرین کے ایک بہت بڑے ہجوم نے تہران میں سعودی سفارت خانے پر حملہ کر دیا تھا، جس کے بعد سعودی عرب نے ایران کے ساتھ اپنے سفارتی تعلقات منقطع کر دیے تھے۔
اس دوطرفہ کشیدگی کے پس منظر میں ایرانی نائب وزیر خارجہ عباس عراقچی نے آج دہشت گردی کے بین الاقوامی مسئلے کے بارے میں کہا، ’’ہم نے دیکھا ہے کہ اگر آپ ان (دہشت گردوں) کا مثال کے طور پر شام میں مقابلہ نہیں کریں گے، تو آپ کو ان کے خلاف یہی جنگ پیرس یا دیگر دارالحکومتوں میں لڑنا پڑے گی۔‘‘
انہوں نے م‍زید کہا، ’’ہمیں دہشت گردوں کے خلاف لڑنا ہی پڑے گا۔ اس کے سوا کوئی دوسرا راستہ ہے ہی نہیں۔ اگر شام، عراق، یمن اور خطے کے دیگر علاقوں میں ان دہشت گردوں کا مقابلہ نہ کیا گیا، تو پھر اس کی قیمت ہم سب کو چکانا پڑے گی۔‘‘

Iran Abbas Araghchi

عباس عراقچی کے بقول انتہا پسندانہ نظریات کے حامل دہشت گرد عناصر کے خلاف کامیاب جنگ انتہائی ضروری ہے


سنی اکثریتی آبادی والا ملک سعودی عرب اور شیعہ اکثریتی آبادی والا ایران دونوں ہی ایک دوسرے پر الزام لگاتے ہیں کہ دوسرا فریق مشرق وسطیٰ میں مسلسل شدید ہوتے جا رہے عدم استحکام کو ہوا دے رہا ہے۔
سعودی وزیر خارجہ عادل الجبیر حالیہ دنوں کے دوران کئی مرتبہ اپنے انٹرویوز میں کہہ چکے ہیں کہ تہران کے ساتھ معمول کے ریاستی اور سفارتی تعلقات اس وقت تک بحال نہیں ہو سکتے جب تک کہ ایران ’ایک انقلاب‘ کی بجائے ایک عام ریاست کا سا رویہ اختیار نہیں کرتا۔