1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

ایران اور دنیا کی چھ بڑی طاقتوں کے درمیان مذاکرات

ایران اور دنیا کی چھ بڑی طاقتوں کے درمیان جینوا میں دو روزہ مذاکرات شروع ہو چکے ہیں ۔اس ملاقات میں ایران کے جوہری توانائی کے متنازعہ پروگرام سے متعلق امور پر بات چیت کی جا رہی ہے۔

default

ایرانی وفد کی قیادت ایرانی جوہری مذاکرات کار سعید جلیلی کر رہے ہیں جبکہ امریکہ، چین ، فرانس، جرمنی، روس اور برطانیہ کے وفد کی قیادت امور یورپی یونین کی خارجہ امور کی مندوبِ اعلیٰ کیتھرین ایشٹن کر رہی ہیں۔ گو کہ بین الاقوامی طاقتیں اس ملاقات میں کسی بڑی پیش رفت کی امید نہیں کر رہیں تاہم وہ اس اہم معاملے پر سرے سے مذاکرات کے ہونے کو ہی امید افزاء قرار دے رہی ہیں۔

NO FLASH Iran-Nuklear Gespräche in Genf

اقوام متحدہ کی جانب سے چوتھی بار پابندیاں عائد کئے جانے کے بعد سے ایران پر جوہری پروگرام پر مذاکرات کرنے کے لئے دباؤ تھا

ادھر مذاکرات کے آغاز سے چند گھنٹے قبل اتوار کے روز سرکردہ ایرانی مذاکرات کار کا کہنا تھا کہ ان مذاکرات میں ایران جوہری توانائی کے حصول کے حق سے دستبردار نہیں ہو گا۔ ایران کا دعویٰ ہے کہ اب وہ فیول راڈز کی تیاری کے لئے ضروری مادہ ایران کی اپنی سرزمین سے حاصل کر رہا ہے۔ جوہری توانائی کی ایرانی تنظیم (AEOI) کے سربراہ علی اکبر صالحی کا کہنا ہے،’’یہ یورینیم جنوبی ایران کی ایک کان سے لیا گیا ہے اور اِسے افزودگی کے لئے اصفہان کے جوہری مرکز میں بھیجا گیا ہے۔ اِس طرح اب ہم باقی ملکوں کے محتاج نہیں رہیں گے۔‘‘

Bushehr Reaktor Tehran Iran

ایران کا متنازعہ جوہر ی ری ایکڑر

دوسری جانب بین الاقوامی طاقتیں چاہتی ہیں کہ ایران یورینیم افزودہ کرنے کی کوششیں ترک کر دے۔ مغربی وفد کے حکام کے مطابق اس ملاقات میں دنیا کی یہ چھ بڑی طاقتیں چاہتی ہیں کہ ایران اپنے جوہری توانائی کے منصوبے پر کئے جانے والے سوالات کا جواب دے۔ ایران البتہ اِس بات پر مصر ہے کہ وہ توانائی کے حصول کے لئے ایٹمی توانائی سے استفادہ کرتا رہے گا۔ ایرانی مذاکرات کار سعید جلیلی کا کہنا تھا،’’ماضی میں ہونے والے مذاکرات کی طرح اِس بار بھی ہم اِس بات کی اجازت نہیں دیں گے کہ ایران سے اُس کے حقوق چھین لئے جائیں۔ جنیوا میں بھی ہمارا موقف وہی ہو گا، جو گزشتہ مذاکرات میں رہا ہے۔‘‘

مغربی حکام کے ایک اعلیٰ افسر نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر ایک خبر رساں ایجنسی کو بتایا کہ ایران کے پاس اب صرف دو ہی راستے ہیں، یا تو وہ بین الاقوامی سطح پر مزید تنہا ہو جائے یا پھر تعاون کرے۔ مذاکرات کا ماحول دوستانہ ہے تاہم جیسے کہ مذاکرات میں شریک ایک عہدیدار نے بات چیت شروع ہونے سے کچھ ہی دیر پہلے صحافیوں سے باتیں کرتے ہوئے کہا، ’ان مذاکرات سے زیادہ توقعات وابستہ نہیں کی جا رہیں‘۔

رپورٹ: عنبرین فاطمہ / خبر رساں ادارے

ادارت: امجد علی

DW.COM