1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

ایران اور بھارت کے مابین چاہ بہارکی بندرگاہ سمیت متعدد معاہدوں پردستخط

بھارت کے وزیراعظم نریندر موودی کا کہنا ہے کہ بھارت ایران کی چاہ بہار بندرگاہ کی تعمیر و ترقی کے لیے 500 ملین ڈالر کی سرمایہ کاری کرے گا، یہ معاہدہ دونوں ممالک کے تعلقات میں ایک اہم سنگ میل ہے۔

BRICS Hassan Rouhani Iran Russland Narendra Modi

ایران اور بھارت نے چہاہ بہار کی بندرگاہ سمیت کل 12 معاہدوں پر دستخط کیے ہیں

فرانسیسی خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کی رپورٹ کے مطابق ایران کی چاہ بہار بندرگاہ کو ایک اہم علاقائی اقتصادی مرکز بنانے کے لیے بھارت اس منصوبے کی تکمیل کے لیے 500 ملین ڈالر کی سرمایہ کاری کرے گا۔ بھارت کے وزیراعظم نریندر مودی نے اس منصوبے کا اعلان دورہ ایران کے دوران کیا۔ اس موقع پر بھارت کے وزیراعظم نے کہا، ’’ ایران کے ساتھ کیے جانے والے اہم معاہدوں کی تکیل کے لیے بھارت پرعزم ہے۔‘‘ اس موقع پر افغانستان کے صدر اشرف غنی بھی وہاں موجود تھے اور تینوں ممالک کے سربراہان نے چاہ بہار کو ایک تجارتی مرکز بنانے کے لیے اور پاکستان کو نظر انداز کرتے ہوئے اس سہ فریقی منصوبے پر دستخط کیے۔

ایران اور بھارت نے چہاہ بہار کی بندرگاہ سمیت کل 12 معاہدوں پر دستخط کیے ہیں۔ ان میں سے ایک معاہدے کے تحت ایران کی سمندری اور بندرگاہ کے امور کی تنظیم اور بھارت کے ایگزم بینک کے مابین ڈیل ہوئی ہے، جس سے چاہ بہار بندرگاہ کے منصوبے میں سرمایہ کاری کے عنصر کو دیکھا جائے گا۔ بھارتی وزیراعظم کے ہم راہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے ایران کے صدر حسن روحانی نے کہا، ’’ چاہ بہار بندرگاہ کی تعمیر و ترقی اور اس منصوبے میں بھارت کی سرمایہ کاری اس بندرگاہ کو ایران اور بھارت کے تعاون کی ایک عظیم علامت بنا دے گی۔‘‘

بھارت کے وزیراعظم اتوار کے روز ایران پہنچے تھے۔ اس دورے کا مقصد ایران پر سے عالمی پابندی اٹھ جانے کے پیش نظر بھارت اور ایران کے مابین تجارت کو فروغ دینا ہے۔ 15 برس بعد کسی بھی بھارتی وزیراعظم کا ایران میں یہ پہلا دورہ ہے۔

بھارت اور ایران کے مابین تجارت کا کل حجم 9 ارب ڈالر ہے، ایرانی میڈیا کے مطابق بھارت ایران سے تیل کی درآمد کو دگنا کرنا چاہتا ہے۔

DW.COM